آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجا کر کرکٹ کے میدان میں قدم رکھنے والے جھگی نشین

Spread the love

آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجا کر کرکٹ کے میدان میں قدم رکھنے والے جھگی نشین فیصل کے خواب چکنا چور ہونے لگے کچرا چن کر بیوی بچوں کی خواہشات پوری کرنے والے غریب جھگی نشین کی غربت اس کے بیٹے کی ترقی کے راستہ کی رکاوٹ بن گئی فیصل کو قذافی کرکٹ سٹیڈیم اکیڈمی کی انتظامیہ نے بھی دھتکار دیا ہرطرف سے مایوس ہوکر فیصل بھی کچرا چننے لگا

وہاڑی کے نوجوان فیصل نے جھگیوں میں آنکھ کھولی جب کچھ بڑا ہوا تو اپنے والدین کو اپنا اور بچوں کاپیٹ پالنے کیلئے کچرا چن کر فروخت کرتے پایا تو وہ بھی والدین کے ساتھ کچرا چننے لگا لیکن اس کے دل میں کچھ بننے کی خواہشیں سر اٹھانے لگیں تو اس نے کرکٹ کے ذریعے خود کو منوانے کی ٹھان لی اور کرکٹ سٹار شعیب اختر کو اپنا آئیڈیل بنا کر اس کی نقل کرنے لگا اور کسی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہوگیا لیکن اس کی غربت کی وجہ سے اس پر نہ ہی کسی ادارہ کی نظر پڑی اور نہ ہی کسی فرنچائزی نے اسے توجہ کے قابل سمجھا اس کے غریب والدین نے بیٹے کی خواہش پوری کرنے کیلئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر اسے کرکٹ کا سامان مہیا کیا اور دیگر ضروریات بھی پوری کرنے کی کوشش کرتے رہے ہر ماں باپ کی طرح جھگی نشین والدین بھی بیٹے کو بڑا انسان بنانا چاہتے ہیں اس کیلئے فیصل نے خورشیدانورسٹیڈیم میں لگے نیٹ پر پریکٹس شروع کردی اور ایک مقامی ٹیم کا حصہ بن کر اپنی بولنگ کے جوہر دکھانے لگا اور وہ وہاڑی میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والا بولر تو بن گیا لیکن ملک وقوم کیلئے کھیلنے کی خواہش تاحال پوری نہیں ہوپائی اس نے اپنے کھیل میں نکھار پیدا کرنے کیلئے قذافی سٹیڈیم اکیڈمی کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اکیڈمی فیس نہ ہونے کی وجہ سے دھتکار دیا گیا اس وقت وہاڑی کا یہ ٹیلنٹیڈ نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر کوڑاکرکٹ کے ڈھیروں اور کچرا کنڈیوں سے کچرا چنتا دکھائی دیتا ہے ایک ملاقات میں اس نے بتایا کہ غربت کی وجہ سے گھر میں نوبت فاقوں تک جاپہنچی ہے مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک وقت کی روٹی کھالیتے ہیں تو دوسرے وقت کی روٹی کے حصول کیلئے جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں مجبور ہوکر کچرا چننے لگا ہوں تاکہ اپنے بوڑھے والدین چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال سکوں فیصل کی والدہ نے روتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور پی ایس ایل فرنچائزیوں سے اپیل کی ہے کہ اس کے بیٹے کو کھیلنے کا موقع دیا جائے تاکہ ملک وقوم کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ ہم بقیہ زندگی میں سکھ کا سانس لے سکیں۔
ملک عبد الغفار انجم تم نیوز وھاڑی