سیم نالہ منچن آباد گندگی کی آماجگاہ بن چکا ھے متعددی بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ۔

Spread the love

سیم نالہ منچن آباد گندگی کی آماجگاہ بن چکا ھے متعددی بیماریوں کے پھیلنے کا اندیشہ۔

منچن آباد شہر کے مشرقی ایریاز ملحقہ نشیبی کھیت کھلیان میں سیم زدہ پانی تقریباً سال بھر کھڑا رھتا تھا اور مکمل طور پر سیم کے پانی میں ڈوبا رہتا تھا جس کی وجہ سے عوام شدید پریشانی سے دوچار تھے لھذا سیم کو ختم کرنے اور ڈرینیج کے لئے سیم نالہ کی تعمیر کی گئی اور مطوبہ مقاصد بآسانی حاصل ہوتے رھے لیکن جب ھیڈ سلیمانکی تا بہاول نگر روڑ شہر کے فرنٹ حصے سے گزارا گیا تو سڑک لیول کو مناسب ہائٹ پر رکھا گیا جس کی وجہ سے شہر کا فرنٹ ایریا چار سے پانچ فٹ نشیبی پوزیشن میں آ گیا اور سیم نالے کی اھمیت مزید بڑھ گئی۔ سیم نالہ کی کھدائی اور توسیع کے علاوہ چار سے پانچ پل بھی بنائے گئے۔سیم زدہ پانی اور شہر کے مخصوص ایریاز سے نکاسی آب کا پانی،ڈرین سسٹم،فالتو اور بارشوں کا پانی بھی بآسانی گزر جاتا تھا لیکن تقریباً گزشتہ دس سالوں سے سیم نالے کی کھدائی اور صفائی نہ کی گئی ھے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سیم نالہ تقریباً بند ہو چکا ھے اور قرب وجوار میں رھائش پزیر مقامی آبادی نے بھی کوڑا کرکٹ،غلاظتیں،شاپرز پھینکنا شروع کر دیئے جس کی وجہ سےاس وقت سیم نالے میں تعفن پیدا ھو چکا ھے، ڈینگی مچھر اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا موجب بنا ھوا ھے اس کے علاوہ بارشوں کا سیزن ھے کس بھی وقت نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی کا ریلہ نالے کی بندش کی وجہ سے شہر میں نقصان بھی پہنچا سکتا ھے۔سیاسی سماجی شخصیات نے جناب ڈپٹی کمشنر ضلع بہاولنگر سے مطالبہ کیا ھے کہ اس کوتاہی اور غیر ذمہ دارانہ رویے پر اسسٹنٹ کمشنر منچن آباد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور سیم نالہ کی مناسب کھدائی کے ساتھ صفائی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔