پشتوزبان کے رسم الخط کو مشکل بنا دیا گیا’اس میں وہی رسم الخط رائج ہونا چاہئے جس میں رحمان

Spread the love

پشتوزبان کے رسم الخط کو مشکل بنا دیا گیا’اس میں وہی رسم الخط رائج ہونا چاہئے جس میں رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک نے اپنی کتب لکھی ہیں’وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار
ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ،28جولائی 2022)آج کے دور میں پشتوزبان کے رسم الخط کو انتہائی مشکل کر دیا گیا ۔جس کی وجہ سے عام فہم لوگوں کو پڑھنے میں مشکلات پیش آتی ہیںلہٰذا پشتوزبان کواسی رسم الخط میں لکھا جائے جس میں رحما ن بابا اور خوشحال خان خٹک نے اپنی کتابیں لکھیں ہیں۔ان خیالات کاا ظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے معروف سرائیکی شاعر اورریڈیو پاکستان کے کمپیئر رمضان کاوش کی پہلی سرائیکی زبان میں شائع ہونیوالی کتاب ”فجر تھی گئی” کی تقریب رونمائی کے موقع پر کیا ۔ اس موقع پر رجسٹرارگو مل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم جیلانی، کوارڈینیٹر قائداعظم کیمپس پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ، ڈین فیکلٹی آف لاء اینڈ انڈمنسٹریٹوسائنسز پروفیسر ڈاکٹر زاہد اعوان، ڈین فیکلٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر تبسم نصیر سمیت دیگر شعبہ کے سربراہان کے ساتھ ساتھ اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان صاحبزادہ نجم الحسن ، ریٹائرڈ ڈائریکٹر نیوز ریڈیو پاکستان اسلام آباد گلزاراحمد ،پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈر ی سکول نمبر5ڈاکٹرقیصر انور ،معروف ماہر تعلیم محمد یعقوب بابڑ،ریڈیو پاکستان کے معروف کمپیئر اعجا زحسین قریشی ، معروف سرائیکی شعراء مخمور قلندری، عصمت گورمانی سمیت میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ میری زبان پشتو ہے مگر آج میں نے سرائیکی شاعر محمد رمضان کاوش کے پہلی سرائیکی مجموعہ ”فجر تھی گئی” کونہایت ہی آسانی سے پڑھاجس میں کسی قسم کی مشکلات نہیں ہوئیں جس کی اہم وجہ آسان رسم الخط ہے۔ مگر دور جدید میں پشتو زبان کے رسم الخط کو اتنا مشکل کر دیا گیا ہے کہ میرے سمیت دیگر پشتو زبان سے وابستہ لو گ بھی اس کو نہیں پڑھ سکتے ۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے زبانوں کے آسان رسم الخظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پشتوزبان کے معروف صوفی شعراء رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کے شاعری مجوعے انتہائی آسان رسم الخط میں ملتے ہیں جن کو کسی دوسری زبان کے لوگ بھی آرام سے پڑھ سکتے ہیں ۔ مگراب پشتو زبان کوجس طرح مشکل الفاظ میں لکھا جاتا ہے جس سے دوسری زبانوں کے لوگوں کو اسے پڑھنے میں مشکلات ہوتی ہیں اور یہی وجہ ایک دوسرے کی زبانوں کوجاننے اور سمجھنے میں دوری کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا تمام زبانوں کو ان کے پرانے رسم الخط میں لکھا جائے تاکہ ہر عام فہم لوگ چاہے اس کا تعلق کسی بھی زبان سے ہو وہ دوسری زبان کو باآسانی پڑھ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوںمیں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے اور اپنے ملک سے محبت اور اس کی سالمیت اور بقاء کی خاطر اپنا کردار ادا کرنے میں شعراء کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ رمضان کاوش کی کتاب ”فجر تھی گئی” ایک امید ہے کہ مشکلات اور تکالیف کے بعد ایک نئی صبح کا سورج لازمی طلوع ہوتا ہے اور اس بہترین سرائیکی کتاب پر میں ان کو مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں بھی اپنے ادب ذو ق و شوق کو جاری رکھتے ہوئے مزید کتابوں کو بھی شائع کریں گے۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ معاشرے میں نوجوان نسل میںفروغ ادب کیلئے ریڈیو پاکستان ، شعراء اور میڈ یا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگااور اس مثبت اقدام کیلئے گومل یونیورسٹی کے دروازے ہ

میشہ کھلیں ہیںکیونکہ یونیورسٹیوں کا کام تعلیم کیساتھ ساتھ ادب کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رمضان کاوش نے وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد سمیت تما م معزز مہمان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج میری کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر آپ لوگوں نے اپنا قیمتی وقت دیکر مجھے جو عزت دی اس پر میں آپ سب کا مشکور ہوں ۔ تقریب سے اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان صاحبزادہ نجم الحسن ، ریٹائرڈ ڈائریکٹر نیوز ریڈیو پاکستان اسلام آباد گلزاراحمد ،معروف ماہر تعلیم محمد یعقوب بابڑ،ریڈیو پاکستان کے معروف کمپیئر اعجا زحسین قریشی ، معروف سرائیکی شعراء مخمور قلندری، عصمت گورمانی، نے بھی رمضان کاوش کی کتاب ”فجر تھی گئی” پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر آفتاب احمد اعوان نے ادا کئے اور اپنے خوبصورت انداز ں بیاں سے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔تقریب میں وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے محمد رمضان کاوش کی کتاب ”فجر تھی گئی” کے سرائیکی اشعار پڑھے جس شرکاء نے خوب سراہا ۔تقریب کے اختتام پر شاعر رمضان کاوش نے مہمان خصوصی وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی ۔

از طرف !راجہ عالم زیب
پی آر او گومل یونیورسٹی ، ڈیرہ اسماعیل خان