ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار، پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ‌ پنجاب ہوں‌گے

Spread the love

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے جس کےبعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور چوہدری پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ پنجاب قرار پائے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے جس کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور چوہدری پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ پنجاب قرار پائے ہیں اور گورنر پنجاب کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے پرویز الہٰی سے حلف لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پرویزالٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چیف سیکریٹری پرویز الٰہی کا بطور وزیر اعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں اور حمزہ شہباز اور ان کے وزرا کا اختیار فوری طور پر ختم کیا جائے اور حمزہ شہباز اپنا دفتر فوری طور پر خالی کردیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی کہا ہے کہ گورنر آج رات ساڑھے 11 بجے پرویز الٰہی سے حلف لیں اور اگر گورنر پنجاب حلف نہیں لے سکتے تو صدر مملکت پرویز الٰہی سے حلف لیں۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حمزہ شہباز کی اب تک کی جانے والی تمام تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں اور 11 صفحات پر مشتمل اپنے مختصر حکمنامے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو فوری فیصلے کی کاپی پہنچائیں اور عدالتی کے فیصلے پرعملدرآمد کیلیے اسے تمام متعلقہ اداروں کو فوری ارسال کیا جائے۔

 

اس سے قبل سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف پرویزالٰہی درخواستوں پر تین روز تک سماعت جاری رہی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے ملکی تاریخ کے اہم ترین کیس کا فیصلہ آج دوپہر محفوظ کرلیا تھا۔

اس اہم ترین کیس میں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے وکیل عرفان قادر، پیپلزپارٹی سے فاروق ایچ نائیک، درخواست گزار پرویز الہیٰ کی طرف سے بیرسٹر علی ظفر اورحمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان نے دلائل دیے۔ عدالت عظمیٰ نے مسلسل تین روز تک سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ملکی سیاسی تاریخ کے اہم ترین کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے تمام وکلا کو تفصیل سے سنا، منصور اعوان نے بہت اچھے طریقے سے عدالت کی معاونت کی۔

اختیارات پارٹی ہیڈ کے ذریعے ہی منتقل ہوتے ہیں، چیف جسٹس

فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کوئی شبہ نہیں پارٹی سربراہ کا اہم کردار ہے اور اختیارات پارٹی ہیڈ کے ذریعے ہی منتقل ہوتے ہیں لیکن ووٹنگ کیلئے ہدایات پارلیمانی پارٹی ہیڈ جاری کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کچھ مزید مواد ہے جس کو دیکھا جانا چاہیے؟ انہوں نے ریمارکس میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی کوشش کی، ان کی کوشش اچھی ہے لیکن تشریح درست نہیں۔

پی ٹی آئی وکیل کا بڑا مطالبہ
سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پی ٹی آئی کے پینل وکیل احمد اویس روسٹرم نے اپنے دلائل میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی فیصلے سے قبل کچھ باتیں سامنے رکھ رہا ہوں، عدالت انہیں بھی دیکھے۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے اپنے دلائل میں بتایا کہ تین ماہ سے وزیراعلیٰ پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا، ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے؟ عدالت سے گزارش ہوگی کہ الیکشن سے قبل کا بھی سارا ریکارڈ دیکھا جائے۔

جج کا بار بار رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی، چیف جسٹس

آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے ریمارکس دئیے تھے کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربےکےعلاوہ کچھ بھی نہیں، ہم گورننس اور بحران کے حل کیلئے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں۔

معزز جج نے ریمارکس تھے کہ اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دےسکتا ہے؟ آئین پڑھنےسے واضح ہےکہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں، اس سوال کے جواب کیلئےکسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں، یہ ایسا سوال نہیں تھا جس پرفل کورٹ تشکیل دی جاتی۔