بھوآنہ حالیہ ہونے والی بارشوں کی وجہ سے دریائے چناب میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے

Spread the love

.موضع ساہمل کے قریب سیلابی پانی کی وجہ سے زمینی کٹاؤ خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے.گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی کئی چھوٹی بستیاں اور گھر دریا برد ہو گئی ہیں جبکہ گاؤں اور چھوٹی آبادیادیوں صفحہ ہستی سے مٹنے کا خدشہ ہے اسی حوالے سے علاقہ مکین کا کہنا ہے کہ یہ کٹاؤ 2014سے شروع ہوا تھا جو اب تک جاری ہے
.سینکڑوں علاقہ مکین گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو گئی ہے.لوگ بے گھر تو ہوئے ہی ہیں ساتھ ساتھ بے روزگار بھی ہو گئے ہیں.علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر چنیوٹ کو علاقے کی صورت حال اور لوگوں کے بے گھر اور بے روز گار ہونے اور درپیش مشکلات سے متعلق تحریری درخواست بھی دیکر آئے ہیں لیکن تاحال انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں.علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ زمینیں دریا برد ہونے کی وجہ سے ان کی چارہ اور اور دوسری فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کے جانور بھوکے مر رہے ہیں وہ گھر ہیں اپنے بچوں کے ساتھ سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں حالیہ ہونے والی مون سون کی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے اور دریائے چناب میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اگر انتظامیہ اور حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو سیلاب کی وجہ سے ان علاقوں میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے