ایک عالم فاضل ٹائُپ کے رانا صاحب کو پھانسی لگنے والی تھی۔۔!

Spread the love

ایک عالم فاضل ٹائُپ کے رانا صاحب کو پھانسی لگنے والی تھی۔۔!

وقت کے راجا نے کہا کہ،
میں تمہاری جان بخش دوں گا،
اگر تم میرے ایک سوال کا صحیح جواب بتا دو گے تو۔۔۔۔
سوال تھا کہ،
عورت آخر چاہتی کیا ہے۔۔۔۔؟

عالم فاضل نے کہا کہ،
کچھ مہلت ملے، تو یہ پتا کر کے بتا سکتا ہوں۔۔۔۔

راجا نے ایک سال کی مہلت دے دی۔۔۔۔

عالم بہت گھوما،
بہت سے لوگوں سے ملا،
مگر کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔۔۔۔

آخر میں کسی نے کہا کہ،
دور جنگل میں ایک چڑیل رہتی ہے،
وہ ضرور بتا سکتی ہے تمہارے اس سوال کا جواب۔۔۔۔!

عالم اُس چڑیل کے پاس پہنچا اور اپنا سوال اُسے بتایا۔۔۔۔

چڑیل نے کہا کہ،
میں ایک شرط پر بتاؤں گی،
اگر تم مجھ سے شادی کرو گے تو۔۔۔۔؟

عالم نے سوچا ‏کہ،
صحیح جواب کا پتہ نہ چلا تو،
جان راجا کے ہاتھوں بھی تو جان جانی ہی ہے،
اسی لئے شادی کے لئے رضامندی ہی بہتر ہے۔۔۔۔

شادی ہونے کے بعد چڑیل نے کہا کہ،
چونکہ تم نے میری بات مان لی ہے،
تو میں نے تمہیں خوش کرنے کے لئے فیصلہ کیا ہے کہ,
میں 12 گھنٹے تک چڑیل،
اور 12 گھنٹے خوبصورت پری بن کے تمہارے ساتھ رہوں گی؛
اب تم یہ بتاؤ کہ،
دن میں چڑیل رہوں یا رات کو۔۔۔۔؟

اب اُس بیچارے نے سوچا کہ،
اگر یہ دن میں چڑیل ہوئی تو دن نہیں گزرے گا،
اور رات میں ہوئی تو رات ڈر ڈر کر گزرے گی۔۔۔۔!

آخر میں اُس عالم نے کہا،
جب تمہارا دل کرے تو پری بن جانا،
اور جب تمہارا دل کرے تو چڑیل بن جانا۔۔۔۔!

یہ بات سن کر چڑیل بہت خوش ہوئی،
اور اُس نے خوش ہو کر کہا کہ،
چونکہ تم نے مجھے اپنی مرضی ‏کی چھوٹ دے دی ہے،
تو میں ہمیشہ ہی پری بن کے رہا کروں گی۔۔۔۔!

پھر چڑیل نے کہا کہ،
راجا کی طرف سے تم سے کیے گئے سوال کا جواب بھی یہی ہے،
عورت ہمیشہ اپنی مرضی ہی کرنا چاہتی ہے،
اگر عورت کو اپنی مرضی کرنے دو گے،
تو وہ پری بن کر رہے گی؛
اور اگر نہیں کرنے دو گے،
تو چڑیل بن کر رہے گی۔۔۔۔!

نوٹ:
شادی شدہ لوگ اپنی باقی زندگی کا فیصلہ خود کر لیں کہ, زندگی کیسے گزارنی ہے,
پری کے ساتھ،
یا پھر چڑیل کے ساتھ۔۔۔۔!
فیصلہ آپ کا اپنا۔۔۔۔!
میرا فرض سی سمجھانا