ایک حکایت ایک سبق

Spread the love

چند اندھوں کا ہاتھی سے سامنا ہو گیا. کسی نے ان کو بتایا کھ یہ ہاتھی ہے. اندھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا کہ ہاتھی دیکھنے میں کیسا ہوتا ہے؟ ان میں سے کسی کے پاس بھی اس سوال کا جواب نہ تھا.چنانچہ وہ ہاتھی کے قریب گئے اور اسے چھونا شروع کردیا. ایک نے ہاتھی کی ٹانگ پکڑ لی اور چلا چلا کر ساتھیوں کو بتانے لگا “مجھے پتاچل چکا ہے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے . ہاتھی بالکل کسی درخت کے تنے کی طرح ہوتا ہے.” دوسرے نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ ہاتھی دیوار کی طرح ہوتا ہے. تیسرے نے اس کی دم پکڑ لی اور دعویٰ کرنے لگا کہ ہاتھی تو رسی کی مانند ہوتا ہے. چوتھے نے ہاتھی کی سونڈ تھام لی تو وہ کہنے لگا کھہ تم تینوں بے وقوف ہو ہاتھی توایک بڑے سانپ کی طرح ہوتا ہے. پانچویں کے ہاتھ میں ہاتھی کا دانت آ گیا تو وہ کہنے لگا “جاہلو ہاتھی تو ایک نیزے کی مانند ہوتا ہے.” چھٹے کا ہاتھ جب ہاتھی کے کان پر پڑا تو وہ کہنے لگا کھ تم سب یا تو جھوٹ بول رہے ہو یا پھر بڑے ہی احمق ہو.ہاتھی دراصل دستی پنکھے کی طرح ہوتا ہے. سب ایک دوسرے کے ساتھ بحث کرنے لگے اور پھر یہ بحث لڑائی میں تبدیل ہو گئی.
صدیوں پرانی یہ بات آج ہمارے سوشل میڈیائی دانشوروں پہ بلکل مکمل صادق آتی ہے جو اصل حقیقت تک پہنچنے کی بجا ئے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں. اور حقیقت کے جزو کو کل سمجھ بیٹھتے ہیں.اور ایک اچھی بھلی تحریر کا ستیا ناس کردیتے ہیں