سندھ میں لسانی فسادات،اور اسکی وجوہات؟

Spread the love

جولائی 12 تاریخ کو رات گئے حیدر آباد بائی پاس پر ایک ہوٹل پر معمولی جھگڑے کے بعد شخص بلال کاکا اور اس کے تین ساتھیوں کو سر پر بھاری چیز مار کر شدید زخمی کیا گیا جس میں سے بلال کی موت واقع ہوگئی۔ واقعے کے خلاف اندرون سندھ میں مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ہوٹل میں کام کرنے والے دو افراد کو گرفتار کرلیا۔تاہم اس قتل کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع جن میں حیدرآباد، جامشورو، کوٹری، سیہون اور دادو میں پشتو بولنے والوں کے کے ہوٹلز ،دکانیں اور مختلف کاروباری مرکز بعض قوم پرستوں نے زبردستی بند کرادئیے، انہیں سندھ چھوڑ کر نہ جانے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور زدوکوب بھی کیا گیا۔سوشل میڈیا میں ایسی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد ردِ عمل کے طور پر کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج ہوا جبکہ سہراب گوٹھ میں ہونے والا احتجاج پُر تشدد صورتحال اختیار کرگیا۔ مظاہرین کی جانب سے دونوں طرف کی سڑکیں بند کردی گئیں پولیس پر پتھراو کیا گیا،اور پولیس سے سرکاری اسلحہ بھی چوری کرلیا اور آس پاس کی سڑکوں میں ٹریفک جام کے دوران لوگوں سے لوٹ مار کے واقعات کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔
جمعرات اور پھر جمعے کو احتجاج کے دوران شر پسند عناصر نے ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد گاڑیوں کو آگ لگادی۔ پولیس نے ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کرکے 41 افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کرلئے ہیں۔
سندھ میں لسانیت سے جڑے مسائل کی ایک تاریخ موجود ہے اور ماضی میں ایسے کئی پُر تشدد واقعات ہوچکے ہیں جس میں لسانی بنیادوں پر ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ تاہم حیدرآباد میں قتل اور پھر اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر سیاسی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں کے رہنمائوں کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے۔
اسی طرح پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین نے بھی برداشت اور بھائی چارے کی فضاء کو قائم کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔
قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ شرپسند عناصروں کی جانب سےسندھیوں اور پختونوں کےدرمیان غلط فہمی پیدا کرنےکی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ادھر انسانی حقوق کمیشن نے سندھ میں لسانی اور سیاسی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ بلال کاکا کے قتل کی تحقیقات شفاف منصفانہ اور شفاف طریقے سے کی جائے اور سندھ حکومت صوبے میں جرائم اور تشدد پر قابو پانے کے لیے اقدامات بھی کرے۔ اس کمیشن نے ملک کی تمام ترقی پسند آوازوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تفرقہ انگیز یا لسانی بیان بازی سے پرہیز کریں۔
(کشیدگی کی وجوہات غیر قانونی تارکین وطن )
دانشور جامی چانڈیو نےصوبے میں لسانی کشیدگی کے بنیادی اسباب میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر آمد اور پھر ان کی بغیر دستاویزات کاروبار کرنے سمیت بعض آئینی شقیں بھی ہیں جو ریاست کو حقیقی وفاق بنانے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے جامی چانڈیو کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں حقیقی فیڈریشن کی بنیاد اگر ڈالی گئی ہوتی، اور تنوع کو قبول کرنے کے آئینی، قانونی طریقہ کار اختیار کئے گئے ہوتے جس کے تحت دُرست اصول اپنائے گئے ہوتے اور اس میں تمام کمیونیٹیز خود کو محفوظ تصور کرتے تو ان کے خیال میں ہمیں ایسے واقعات کا سامنا نہ ہوتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر اُن اصولوں کو پاکستان میں بھی اپنایا جاتا تو فیڈریشن میں ایسے تنازعات وقت کے ساتھ حل ہوجاتے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں ریاست اونٹاریو اور کیوبک کے درمیان فرنچ اور انگلش بولنے والوں کے درمیان ماضی میں شدید کشیدگی رہی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ کیوبیک کی زبان، شناخت اور دیگر حقوق کو کینیڈا کے آئین میں بھی تحفظ فراہم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح برازیل، ارجینٹینا، وینزویلا اور میکسیکو میں بھی ایسے ایشوز تھے جو اب کافی حد تک حل ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ماضی میں بیلجئیم میں فرانسیسی اور ہسپانوی زبانیں بولنے والے گروہوں کے درمیان کافی کشیدگی رہی جبکہ اسپین میں بھی ایسی ہی صورتحال رہی ہے۔ یہی کچھ سوئٹزرلینڈ میں رہا ہے۔ افریقی ملک نائجیریا میں عیسائی اور مسلمانوں کے درمیان بہت کشیدگی رہی ہے۔ جبکہ ان دونوں مذاہب کے ماننے والوں میں بھی کئی زبانیں بولنے اور علاقائی تنوع موجود ہیں۔ اسی طرح ایتھوپیا، کانگو اور سوڈان میں بھی یہی صورتحال رہی۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ ممالک اس صورتحال سے نکل آئے ہیں۔ ملائشیا اور پھر بھارت کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ بھارت میں 52 فیصد آبادی ہندی اور اردو نہیں بول سکتے لیکن اس کے باوجود بھی وقت کے ساتھ ان کی فیڈریشن کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوئی ہے۔ جبکہ نیپال اور متحدہ عرب امارات کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔
جامی چانڈیو نے مزید کہا کہ اگر سندھ کی بات کی جائے تو تقسیم سے قبل سندھ میں سندھی بولنے والوں کی آبادی 97 فیصد تھی۔ اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد ہجرت کرکے یہاں آئی اور وہ یہاں کے کلچر میں رچ بس چکے ہیں۔ سندھی اور اردو بولنے والوں میں رشتہ داریاں تک ہوچکی ہیں۔ لیکن بعض جماعتیں اس تقسیم کو اب بھی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب پنجابی بولنے والے بھی سندھ میں تقسیم سے قبل بدین، سانگھڑ اور دیگر اضلاع میں آباد ہوئے۔ اور ون یونٹ کے دور میں بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کو کئی اضلاع میر پور خاص، سانگھڑ، بدین، عمر کوٹ وغیرہ میں میں بڑے پیمانے میں زمینیں الاٹ کی گئیں۔ یہ لوگ بھی سندھ میں مکمل طور پر رچ بس چکے ہیں۔ جبکہ اسی طرح پشتو بولنے والے بڑی تعداد میں شکار پور اور دیگر اضلاع میں دو ڈھائی سو سالوں سے یہاں آباد ہیں اور وہ بھی اس دھرتی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد اکنامک مائیگرینٹ بن کر نہیں آئے بلکہ وہ اس سرزمین کا حصہ بن گئے۔لیکن معاملہ خراب اس وقت ہوا جب فوجی حکمران ضیاء الحق کے دور میں بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی سندھ آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیر قانونی طور پر یہاں آنے والوں کا وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس کوئی اصل تعداد موجود نہیں۔ ان کی مانیٹرنگ کا کوئی نظام نہیں تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ اور اس میں دونوں حکومتوں کی مجرمانہ غلفت شامل ہے۔ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ غیر قانونی مہاجرین کو مستقل شہری بنادیا جائے۔
تحریر:شاہ فیصل خان
پتہ:بلدیہ ٹاؤن،کراچی