صوبہ پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کی مکمل تفصیل۔

Spread the love

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں 10 امیدوار ایسے ہیں جو سال 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت سے جیت کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔ 20 میں سے صرف 6 حلقے ایسے ہیں جن کے ایم این ایز کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

ایک حلقے کے ایم این اے پیپلز پارٹی سے باقی 13حلقوں کے ایم این ایز پی ٹی آئی سے ہیں، ان تیرہ میں سے تین ایم این اے ایسے ہیں جو منحرف ہیں۔ پنجاب کے ان ضمنی انتخاب میں پانچ سے چھ سیٹوں پر مقابلہ انتہائی سخت ہے، ان میں دو لاہور اور باقی جنوبی پنجاب کی سیٹیں ہیں۔

3حلقے ایسے ہیں جہاں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے سابق امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے، بیس کے بیس حلقوں میں عمران خان اور مریم نواز نے خود جا کر الیکشن مہم میں حصہ لیا اور جلسے کیے۔

حلقہ پی پی 7 راول پنڈی ٹو

مسلم لیگ ن کے امیدوار: راجا صغیر احمد پی ٹی آئی کے امیدوار :کرنل (ر) شبیراعوان 2018 کے نتائج

ن لیگ کے امیدوار راجا صغیر نے یہ سیٹ دو ہزار اٹھارہ میں آزاد حیثیت میں 43 ہزار 3 سو 63 ووٹ لے کر جیتی تھی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

دوسرے نمبر پر اس وقت ن لیگ کے راجا محمد علی نے 42 ہزار 4 سو 59 ووٹ لیے تھے۔ تیسرے نمبر پر پی ٹی آئی رہی تھی پی ٹی۔ آئی کے غلام مرتضیٰ ستی نے 40 ہزار 5 سو 28 ووٹ لیے تھے۔ چوتھے نمبرپر ٹی ایل پی رہی تھی۔ اس وقت جیتنے والے راجا صغیر ن لیگ کے امیدوار ہیں، جب کہ پی ٹی آئی نے اپنا امیدوار تبدیل کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے امیدوار کرنل شبیرنے پیپلزپارٹی کی طرف سے 2008کا الیکشن لڑاتھا اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ بعد میں کرنل شبیر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ یہ حلقہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57کے نیچے ہے یہاں پی ٹی آئی کے صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں۔

حلقہ پی پی 83خوشاب ٹو

مسلم لیگ ن کے امیدوار: ملک امیر حیرر سانگھا پی ٹی آئی کے امیدوار : ملک حسن اسلم 2018 کے نتائج

یہ سیٹ آزاد امیدوار ملک غلام رسول سانگھا نے 68ہزار9سو59ووٹ لے کر جیتی تھی بعد میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ اس بار وہ خود الیکشن نہیں لڑرہے بلکہ ان کی جگہ ان کا بیٹا انتخاب لڑ رہا ہے۔

دوسرے نمبر پر ن لیگ کے آصف ملک نے47ہزار6سو84ووٹ حاصل کر کے رہے۔ تیسرے نمبر پر آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ تھے، جنہوں نے 10زاہر ووٹ حاصل کیے۔ پی ٹی آئی اس حلقے میں پانچویں نمبر رہی تھی اور اس نے صرف 8ہزارووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ چوتھے نمبر پر ٹی ایل پی آئی تھی۔

پی ٹی آئی کے امیدوار اس ضمنی الیکشن میں اسی حلقے کے ایم این اے ملک عمر اسلم کے بیٹے ہیں، اس حلقے کا ایم این اے بھی پی ٹی آئی کا ہی ہے۔ اس حلقے میں سانگھا خاندان کافی مضبوط ہے اور اس بار بھی کامیابی کا امکان ہے۔

حلقہ پی پی 90بھکر ٹو

مسلم لیگ کے امیدوار: سعید اکبر نوانی پی ٹی آئی کے امیدوار: عرفان اللہ نیازی 2018 کے نتائج

اس حلقے میں سعید اکبر 59350ووٹ لے کر آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے جو بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ دوسرے نمبرپرن لیگ کے عرفان اللہ نیازی نے44ہزار ووٹ لیے تھے اب عرفان نیازی ناراض ہوکر لوٹے ہوکر پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اس حلقے میں تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے احسان اللہ خان نے 40ہزار ووٹ لیے تھے۔

اس بار سعید اکبر کو سخت مقابلے کا سامنا ہے، کیونکہ ن لیگ کا امیدوار ناراض ہو کر پی ٹی آئی کی طرف ہے اور ن لیگ کے ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ سعید اکبر نوانی ترین گروپ کے ترجمان بھی ہیں۔ یہ حلقہ این اے 97میں آتا ہے جس کا ایم این اے بھی پی ٹی آئی کا ثناللہ مستی خیل ہے۔

حلقہ پی پی 97 فیصل آباد ون

مسلم لیگ ن کے امیدوار: اجمل چیمہ پی ٹی آئی کےامیدوار: علی افضل ساہی اجمل چیمہ سابق صوبائی وزیر بھی رہے ہیں 2018کے نتائج

دو ہزار اٹھارہ میں اجمل چیمہ نے 42ہزاردوسو73ووٹ لے کر آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے۔ دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے علی افضل ساہی رہے تھے، جنہوں نے 37ہزارووٹ لیے تھے۔
تیسرے نمبر پر مسلم لیگ ن تھی جس کے آزاد علی تبسم نے 35ہزارووٹ لیے تھے۔

اس حلقے میں اس بار علی افضل ساہی کی پوزیشن کافی مضبوط ہے کیونکہ ن لیگ یہاں بھی تقسیم ہے اور پچھلے الیکشن میں بھی علی افضل صرف چھ ہزار ووٹ سے ہارے تھے۔ یہ حلقہ این اے 101کے نیچے ہے یہاں پی ٹی آئی کے عاصم نذیرایم این اے ہیں۔ عاصم نذیر بھی منحرف اراکین میں شامل ہیں جنہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تھا اور اگلا الیکشن بھی ن لیگ سے ہی لڑیںگے۔

حلقہ پی پی 125 جھنگ ٹو

مسلم لیگ کے امیدوار:فیصل حیات جبوآنہ پی ٹی آئی کے امیدوار: محمد اعظم چیلا 2018 کے نتائج

یہ حلقہ فیصل حیات جبوآنہ نے 50ہزار ووٹ لے کر آزاد حیثیت میں جیتا تھا بعد میں وہ پی ٹی ئی میں شامل ہوگئے دوسرے نمبر پرپی ٹی آئی کے اعظم چیلا نے 38ہزار4سو61ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے میں اٹھارہ میں بھی ون ٹوون مقابلہ تھا اور جبوآنہ نے بارہ ہزار کی لیڈسے جیتا تھا اٹھارہ میں اس حلقے میں ن لیگ کا امیدوار نہیں تھا اس بات بھی جبوآنہ کی پوزیشن بہتر ہے۔

اس حلقے میں دوہزار تیرہ میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے بننے والے افتخار بلوچ اس بار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں اور انہیں ٹی ایل پی کی سپورٹ حاصل ہے۔

یہ حلقہ بھی پی ٹی آئی کے ایم این اے کے نیچے ہے یہاں سابق وفاقی وزیرپی ٹی آئی کے صاحبزدہ محبوب سلطان ایم این اے ہیں

حلقہ پی پی 127 جھنگ فور

مسلم لیگ ن کے امیدوار: مہر اسلم بھروانہ پی ٹی آئی کے امیدوار :محمد نوازبھروانہ 2018 کے نتائج

دوہزار اٹھارہ میں اس حلقے سے مہر اسلم بھروانہ 27ہزار3سو53ووٹ لے کرآزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے دوسرے نمبر پی ٹی آئی کے محمد نوازبھروانہ رہے تھے جنہوں نے 26ہزار7سو65ووٹ لیے تھے جیت کامارجن صرف پانچ سوووٹوں کا تھا۔

اس بار دونوں ہی وہی امیدوار ہیں جنہوں نے اٹھارہ میں مقابلہ کیا تھا بس یہ فرق ہے کہ اسلم بھروانہ آزاد لڑے تھے اب وہ ن لیگ کے امیدوار ہیں۔ اس حلقے میں ن لیگ کے امیدوارمحمد سلیم طاہر نے صرف 19سو49ووٹ لیے تھے، اگر مہراسلم بھروانہ اپنا پورا ووٹ بینک قائم رکھیں اور ن لیگ کے انیس سوووٹ بھی شامل ہوں تب جیت ممکن ہوسکتی ہے ، ویسے مقابلہ انتہائی سخت ہوگا۔ یہ حلقہ بھی پی ٹی آئی کی ایم این اے غلام بی بی بھروانہ کے نیچے ہے۔

حلقہ پی پی 140 شیخوپورہ سکس

مسلم لیگ کے امیدوار: میاں خالد محمود پی ٹی آئی کے امیدوار: خرم ورک 2018 کے نتائج

2018میں اس حلقے میں میاں خالد نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور32ہزار8سو62ووٹ لیے تھے۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے یاسر اقبال نے 26ہزار29ووٹ لیے تھے۔

میاں خالد محمود نے دوہزار دو میں ق لیگ سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑاتھا اور ایم پی اے منتخب ہوئے تھے انہوں نے اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑا اور کامیاب ہوئے تھے۔ میاں خالد محمود کا تعلق علیم خان گروپ سے ہے، یہ حلقہ این اے 121کے نیچے ہے یہاں ن لیگ کے میاں جاوید لطیف ایم این اے ہیں۔ اس حلقے میں میاں خالد کی جیت کا امکان ہے۔

حلقہ پی پی 158 لاہور پندرہ

مسلم لیگ ن کے امیدوار: احسن شرافت پی ٹی آئی کے امیدوار :میاں عثمان اکرم میاں عثمان اکرم پی ٹی آئی کے سابق وزیر میاں محمود الرشید کے داماد ہیں 2018کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے سے علیم خان نے 52ہزار 2 سو 99 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پرمسلم لیگ ن کے احسن شرافت تھے جنہوں نے45ہزار2سو28ووٹ لیے تھے۔ اس بار علیم خان الیکشن نہیں لڑ رہے، اس لیے ٹکٹ مسلم لیگ ن کے سابق ٹکٹ ہولڈر احسن شرافت کو ہی دیا گیا ہے۔ علیم خان ن لیگ کے امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کا امیدوآر اس حلقے میں کافی کمزور ہے اس لیے لاہور سے یہ حلقہ میں ن لیگ کی پوزیشن مضبوط ہے، یہ حلقہ مسلم لیگ ن کے ایاز صادق کے نیچے ہے۔

حلقہ پی پی 167لاہورچوبیس

مسلم لیگ ن کے امیدوار: نذیرچوہان پی ٹی آئی کے امیدوار: شبیر گجر 2018کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے میں نذیر چوہان پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئےتھے۔ انہوں نے 40ہزار 7سو 4 ووٹ لیے تھے۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے میاں سلیم تھے، جنہوں نے 38ہزار 4سو ووٹ لیے تھے۔

اس بار میاں سلیم نذیر چوہان کی حمایت کر رہے ہیں، نذیر چوہان کی جیت کے امکان ففٹی ففٹی ہیں کیوں کہ نذیر چوہان کئی قسم کے تنازعات میں شامل رہے ہیں۔ نذیر چوہان کے مد مقابل شبیر گجر پہلی بار میدان میں ہیں انہیں ایک پیسے والی پارٹی سمجھ کر ٹکٹ دیا گیا ہے۔

شبیر گجر کو جوہر ٹاون اور نذیر چوہان کو ٹاؤن شپ اور گرین ٹاون کے علاقوں میں برتری حاصل ہے، یہ حلقہ ن لیگ کی ایم این اے شائستہ پرویز ملک کے نیچے ہے یہاں ابھی آٹھ ماہ پہلے ہی الیکشن ہوا تھا جو ن لیگ نے جیتا تھا۔

حلقہ پی پی 168 لاہور پچیس

مسلم لیگ ن کے امیدوار: ملک اسد کھوکھر پی ٹی آئی کے امیدوار : ملک نوازاعوان 2018 کے نتائج

اس حلقے سے اٹھارہ کے بعد سعد رفیق نے صوبائی نشست چھوڑی تھی اس پر ضمنی الیکشن ہوئے جو اسد کھوکھر نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتا تھا۔ انہوں نے 17ہزار5 سو79ووٹ حاصل کیے تھے، دوسرے نمبر پر ن لیگ کے رانا خالد ایڈووکیٹ تھے، انہوں نے 16 ہزار 8 سو92 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس حلقے میں اسد کھوکھر کی پوزیشن مضبوط ہے، کیونکہ ان کے مقابلے میں امیدوار نیا ہے اور اسد کھوکھر کو اپنی برادری اور ن لیگ کی مکمل حمایت حاصل ہے کیونکہ یہ سیٹ خواجہ سعد رفیق نے چھوڑی تھی اور وہ اور ان کے بھائی اسد کھوکھرکی مہم چلارہے رہے ہیں۔ یہ حلقہ ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق اور شائستہ پرویز کے نیچے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حلقے سے ن لیگ کو آج تک کبھی شکست نہیں ہوئی ہے۔

حلقہ پی پی 170 لاہور ستائیس

مسلم لیگ ن کے امیدوار: امین چودھری پی ٹی آئی کے امیدوار : ملک ظہیر کھوکھر 2018 کے نتائج

اس حلقے میں امین چوہدری نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے 25 ہزار ایک سو 80 ووٹ لیے تھے۔ امین چوہدری کپتان کے سابق قریبی ساتھی عون چوہدری کے بھائی ہیں۔

دوسرے نمبر پر ن لیگ کے عمران جاوید تھے، انہوں نے 20ہزار7سو30 ووٹ حاصل کیے تھے، اس حلقے میں پی ٹی آئی کی پوزیشن کافی بہتر ہے گو کہ ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر عمران جاوید خود مہم چلا رہے ہیں لیکن ان کے مدمقابل ملک ظہیر عباس کھوکھر ہیں جن کو کھوکھر برادری کی حمایت حاصل ہے۔

یہ حلقہ پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائیٹیز ویلنشیا ، این ایف سی ، واپڈا ٹاؤن جیسے پوش علاقوں پر مشتمل ہے، یہاں پی ٹی آئی کی کافی اکثریت ہے۔ ملک ظہیر عباس بیت المال کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ یہ حلقہ بھی ن لیگ کے ایم این اے رانا مبشر کے نیچے ہے۔

حلقہ پی پی 202ساہیوال سات

مسلم لیگ ن کے امیدوار: ملک نعمان لنگڑیال پی ٹی آئی کے امیدوار :میجر ریٹائرڈ غلام سرور 2018کے نتائج

اس حلقے میں ملک نعمان لنگڑیال نے 57ہزار5سو40ووٹ لے کر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی دوسرے نمبر پر ن لیگ کے شاہد منیر رہے تھے۔ انہوں نے 44ہزار3سو49ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے میں ایک تیسرا امیدوار بھی ہے اس کا نام عاد سعید گجر ہے، جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن ٹکٹ میجر غلام سرور کو مل گیا تو وہ ناراض ہوکر آزاد الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

میجر غلام سرور نے سیاسی کیریئر کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا تھا اب وہ پی ٹی آئی سے لڑ رہے ہیں، اس حلقے میں ن لیگ کے جیتنے کے امکانات ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کا ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ یہ حلقہ پی ٹی آئی کےایم این اے مرتضیٰ اقبال کے نیچے ہے۔

حلقہ پی پی 217 ملتان سات

مسلم لیگ ن کے امیدوار: محمد سلمان نعیم پی ٹی آئی کے امیدوار: زین قریشی 2018کے نتائج

اس حلقے میں سلمان نعیم نے آزاد حیثیت میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی انہوں نے35ہزار2سو34ووٹ لیے تھے۔ دوسرے نمبرپر شاہ محمود قریشی نے 31ہزار 7 سو16ووٹ لیے تھے۔ ن لیگ کے تسنیم کوثر اکیس ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

یہ ملتان کا حلقہ ہے یہاں شاہ محمود قریشی نے اپنی جماعت پر ہی خود کو ہرانے کا الزام لگایا تھا اور اب ان کے بیٹے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ زین قریشی اس وقت ایم این اے بھی ہیں۔

اس سیٹ پر بھی سخت مقابلہ ہوگا، زین قریشی پر دس ووٹ کے بدلے ایک موٹر سائیکل دینے کا الزام لگا ہے جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس بھی لیا ہے۔ اس حلقے میں دوبارہ سلمان نعیم کی پوزیشن مضبوط ہے سلمان نعیم جہانگیر ترین کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حلقہ پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی کے نیچے ہے۔

حلقہ پی پی 224 لودھراں ون

مسلم لیگ ن کے امیدوار:زوارحسین وڑائچ پی ٹی آئی کے امیدوار:عامر اقبال شاہ

یہ حلقہ جہانگیرترین کا آبائی حلقہ ہے اور زوار حسین وڑائچ ترین کے قریبی ساتھی ہیں۔ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے امیدوار عامر اقبال شاہ کا تعلق ن لیگ سے تھا۔ وہ اٹھارہ میں ن لیگ کے امیدوار تھے۔ ان کے والد اقبال شاہ نے جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو ضمنی الیکشن میں شکست دی تھی لیکن اب وہ ناراض ہوئے ن لیگ سے تو پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ دیدیا یہ بھی لوٹے ہیں۔ 2018 کے نتائج

اٹھارہ میں اس حلقے میں زوار وڑائچ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی انہوں نے 60ہزار 4 سو 82 ووٹ حاصل کیے تھے۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے عامراقبال شاہ رہے تھے انہوں نے48ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔ اب بھی یہ دونوں امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں لیکن ان کی پارٹیاں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔

اس لیے صورت حال اس حلقے میں بہت دلچسپ ہے لیکن ترین کا یہ آبائی حلقہ ہے اس لیے وہ پورا زور لگا رہے ہیں کہ یہاں ان کو ناکامی نہ ہو۔ اس حلقے میں ن لیے کے کانجو برادران کا بھی کافی اثرو رسوخ ہے۔ یہ حلقہ این اے 154کے نیچے ہے یہاں ن لیگ کے عبدالرحمان کانجو ایم این اے ہیں۔

حلقہ پی پی 228لودھراں تھری

مسلم لیگ ن کے امیدوار:نذیر احمد بلوچ پی ٹی آئی کے امیدوار:کیپٹن جاوید خان جاوید خان 2013میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے اور اس سے پہلے یہ بھی ترین گروپ میں شامل رہے 2018کے نتائج

سال 2018 کے الیکشن میں نذیر بلوچ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تھا اور 43 ہزار ایک سو 69 ووٹ لیے تھے۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے سید رفیع الدین تھے، جنہوں نے 41 ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس حلقے کی خاص بات یہ ہے کہ ن لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر سید رفیع الدین ن لیگ سے ناراض ہو کر آزاد لڑ رہے ہیں، یہ بھی ایک مضبوط امیدوار ہیں، اس لیے یہاں ن لیگ کی پوزیشن کافی کمزور ہے اور یہ سیٹ ہاتھ سے جاسکتی ہے۔

یہ حلقہ پی ٹی آئی کے ایم این اے میاں شفیق کے نیچے آتا ہے۔

حلقہ پی پی 237 بہاولنگر ون

مسلم لیگ ن کے امیدوار:فداحسین پی ٹی آئی کے امیدوار:سید آفتاب رضا 2018کے نتائج

اٹھارہ میں فدا حسین نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت کی تھی۔ انہوں نے 56ہزار4سو11ووٹ لیے تھے۔

دوسرے نمبر پر طارق عثمان رہے، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا۔ انہوں نے 47ہزار6 سو30ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے میں فدا حیسن کی پوزیشن مضبوط ہے۔ فدا حسین تین مرتبہ اسی حلقے سے مسلسل الیکشن جیت رہے ہیں اور اس بار بھی انہیں کے چانسز ہیں کیونکہ ان کے مد مقابل آفتاب پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے اپنے پچھلے امیدوار طارق عثمان کو ٹکٹ نہیں دیا اس لیے وہ ناراض ہیں۔ یہ حلقہ بھی پی ٹی آئی کے ایم این اے غفار وٹو کے نیچے آتا ہے۔

حلقہ پی پی 272 مظفر گڑھ پانچ

مسلم لیگ ن کے امیدوار:زہرہ باسط بخاری پی ٹی آئی کے امیدوار: معظم خان جتوئی 2018کے نتائج

یہ حلقہ بڑا دلچسپ ہے یہاں سے سید باسط بخاری این اے اورپی پی دونوں سیٹوں پر کامیاب ہوئے تھے لیکن انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ رکھی اور پنجاب کی یہ سیٹ چھوڑ دی تھی۔ اس سیٹ پر ان کی والدہ نے ضمنی الیکشن لڑا اوروہ جیت گئیں۔

اس بار انہوں نے اپنی اہلیہ کو الیکشن میں اتارا ہے اور خود ان کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں، یہاں تک کہ کسی اشتہار پر ان کی اہلیہ کی تصویر تک نہیں ہے۔ اہلیہ کی جگہ سید باسط کی اپنی تصاویر ہیں۔

سید باسط بخاری منحرف ایم این اے ہیں اور حال ہی میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔ اس حلقے میں ان کے بھائی بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اس حلقے میں معظم جتوئی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جو پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قیوم جتوئی کے کزن ہیں۔

اس حلقے میں کسی پارٹی کا ووٹ نہیں ہے، بلکہ یہاں امیدواروں کا ذاتی اور برادری کا ووٹ ہے۔ اس حلقے میں بتول باسط کی جیت کے چانسز زیادہ ہیں۔

پی پی 273 مظفر گڑھ چھ

مسلم لیگ ن کے امیدوار:سبطین رضا پی ٹی آئی کے امیدوار:یاسرخان جتوئی 2018کے نتائج

اٹھارہ میں سبطین رضا نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر36ہزار ووٹ لے کر یہ سیٹ حاصل کی تھی اب وہ منحرف ہو کر دوبارہ ن لیگ سے لڑ رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار رسول بخش تھے، جنہوں نے 26ہزار ووٹ لیے تھے۔

پی ٹی آئی کے امیدوار یاسر جتوئی اس سے پہلے پیپلزپارٹی میں تھے، یہ سال 2013 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے تھے۔ اس حلقے میں سبطین رضا کی پوزیشن تھوڑی بہتر ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے نہیں ہے لیکن جتوئی برادری کی سپورٹ انہیں حاصل ہے۔

یہ حلقہ پیپلزپارٹی کےایم این اے رضا ربانی کھرکے نیچے آتا ہے۔

حلقہ پی پی 282 لیہ تھری

مسلم لیگ ن کے امیدوار: محمد طاہر رندھاوا پی ٹی آئی کے امیدوار: قیصر عباس مگسی 2018کے نتائج

سال 2018 میں طاہر رندھاوا نے آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 37ہزار6سو7ووٹ لیے تھے۔ دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے قیصر عباس تھے، جنہوں نے 26ہزار9سو92ووٹ لیے تھے۔

تیسرے نمبر پر ن لیگ محمد ریاض تھے، جنہوں نے 25ہزار ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی کا امیدوار وہی ہے جو اٹھارہ میں تھا۔ لیکن قیصر عباس پہلے ن لیگ سے دوبار ایم پی اے رہے ہیں۔

انہوں نے آٹھ اور تیرہ میں ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور جیتے لیکن وہ اٹھارہ میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لڑے لیکن ہار گئے۔ اس حلقے میں طاہررندھاوا کا اپنا ووٹ بینک ہے لیکن ن لیگ کا ٹکٹ محمد ریاض کو نہ ملنے پر مسائل ہوسکتے ہیں۔

یہ حلقہ پی ٹی آئی کے ایم این اے نیاز احمد جھکڑ کے نیچے آتا ہے۔

حلقہ پی پی 288ڈیرہ غازی خان چار

مسلم لیگ ن کے امیدوار:عبدلقادرخان کھوسہ پی ٹی آئی کے امیدوار:سیف الدین خان کھوسہ 2018کے نتائج:

اٹھارہ میں اس حلقے میں محسن عطا کھوسہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت حاصل کی۔ انہوں نے 39ہزار3سو96ووٹ لیے تھے۔دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے سیف الدین کھوسہ رہے تھے۔ انہوں نے 30ہزار ووٹ لیے تھے۔ اس حلقے کے ایم این اے امجد فاروق کھوسہ کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے، وہ بھی منحرف ہونے والوں میں شامل ہیں۔
اس حلقے میں اٹھارہ میں جیتے والے محسن کھوسہ الیکشن نہیں لڑ رہے بلکہ ایم این اے امجد فاروق کھوسہ نے اپنے بیٹے قادر کھوسہ کو ن لیگ کے ٹکٹ پر کھڑا کیا ہے، اس حلقے میں پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی ہے اور دونوں طرف لوٹے ہیں۔سیف کھوسہ سابق گورنر پنجاب ذوالفقار خان کھوسہ کا بیٹا ہے۔ ان کا تعلق ن لیگ سے بڑی دیر تک رہا ہے اور سیف کھوسہ تو ایک الیکشن پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر بھی لڑ چکے ہیں۔ اس حلقے میں بڑا تگڑا مقابلہ ہے کیونکہ دونوں طرف کھوسہ برادری کے ہی امیدوار ہیں، لیکن قادر کھوسہ پہلی بار الیکشن لڑ رہے ہیں اور نوجوان بھی ہیں اور ان کے والد حلقے کے ایم این اے بھی ہیں جس کا فائدہ انہیں ہوسکتا ہے۔