پاکستان نے آئی ایم ایف سے کتنے معاہدے کیے؟

Spread the love

پاکستان نے آئی ایم ایف سے کتنے معاہدے کیے؟
اور
‘آئی ایم ایف کی پالیسی پاکستان کے لیے کتنی مفید یا نقصان دہ رہی؟

پاکستان کی موجودہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 2019 میں طے پانے والے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، بجلی کے نرخ بڑھانے، اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور انڈسٹری پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور کچھ دوسری شرائط پر عمل کیا گیا ہے۔
‘آئی ایم ایف کی جانب سے اس موجودہ پروگرام کے تحت چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں۔
جبکہ!
باقی تین ارب ڈالر کے لیے موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق:
‘جلد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ پہلا پروگرام نہیں اور نہ ہی پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں پہلی بار داخل ہوا ہے۔
‘پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔
پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے میں ملک کے ماہرین معیشت اور ان پروگراموں کے دوران حکومتوں میں رہنے والے افراد نے پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف پروگراموں کے اثرات کے متعلق مختلف رد عمل دیا ہے۔
کچھ کے مطابق:
‘آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے مالی نظم و ضبط کے لیے تھے۔
تو!
‘دوسروں نے ان پروگراموں سے ملک پر قرض کے بوجھ میں اضافے اور غربت میں اضافے کے بارے میں نشاندہی کی ہے۔

‘پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں کی تاریخ کیا ہے؟

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک 22 پروگرام ہوئے اور پہلا پروگرام دسمبر 1958 میں طے پایا جس کے تحت پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ طے پایا۔
‘اس کے بعد آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آخری اور موجودہ پروگرام کے معاہدے پر جولائی 2019 میں دستخط ہوئے جس کے تحت پاکستان کو چھ ارب ڈالر ملنے تھے جس میں سے تین ارب ڈالر مل چکے ہیں اور باقی تین ارب ڈالر کے لیے موجودہ حکومت کے عالمی ادارے سے مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی تاریخ کے مطابق:
فوجی صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔
‘پاکستان پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں بننے والی پہلی حکومت کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے چار پروگرام ہوئے۔
‘فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شرکت کی۔
‘پی پی پی کی دوسری حکومت میں بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شامل ہوا۔
‘سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پہلی حکومت میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان نے شمولیت اختیار کی۔
‘بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے تین پروگراموں میں شامل ہوا۔
تو!
نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ میں پاکستان نے دو آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت اختیار کی۔
‘سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دو آئی ایم ایف پروگرام ہوئے۔
پی پی پی کی 2008 سے 2013 میں بننے والی حکومت میں ایک پروگرام۔
‘پاکستان مسلم لیگ نواز کی 2013 سے 2018 میں حکومت میں ایک پروگرام۔
اور
پاکستان تحریک انصف کے دور میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان شامل ہوا جو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز لیگ کی سربراہی میں مخلوط حکومت نے جاری رکھا ہوا ہے۔

‘پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف کا کیا کردار رہا؟

سنہ 1958 سے لے کر 2022 تک آئی ایم ایف کے 22 پروگراموں میں پاکستان کی شمولیت اور اس کے پاکستان کی معیشت کے کردار کے بارے میں ماہر معیشت اور وزارت خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ:
‘آئی ایم ایف کا پاکستانی معیشت سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ:
1988 کے بعد تو پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس کے آتے ہی یہی نعرہ لگا کہ ‘چلو چلو آئی ایم ایف چلو۔’
انھوں نے کہا کہ:
‘اس کی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ پاکستان کو ‘پل اور پش’ فیکٹر کے ذریعے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل کیا گیا۔
انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:
‘کیونکہ آئی ایم ایف امریکہ کے زیر اثر ہے اس لیے وہاں سے ‘پل’ کیا گیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام میں لاؤ اور یہاں سے ہماری حکومتوں نے ملک کو اس آئی ایم ایف کی جانب ‘پش’ کیا۔…