صدر بائیڈن اپنے دورے سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں؟

Spread the love

صدر بائیڈن اپنے دورے سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں؟

لیکن اگر صدر بائیڈن کے اس دورے کے امریکی پیٹرول پپموں پر فوری اثرات سامنے نہیں آتے تو صدر کے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے؟

صدر بائیڈن نے سعودی ولی عہد سے کسی بھی ملاقات یا سامنے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ عرب کی علاقائی کانفرنس میں شرکت کے لیے جدہ جا رہے ہیں جہاں سعودی ولی عہد شہزاہ محمد بن سلمان بھی موجود ہوں گے۔

انھوں نے اپنے دورے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی درخواست پر ایسا کر رہے ہیں اور اسرائیل کے خطے میں ‘مکمل طور پر مربوط’ ہونے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنے سفر کا آغاز کیا۔

اس دورے کا ایک بڑا مقصد سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے میں مدد کرنا ہے، جس میں اسرائیل کے عرب دنیا کے ساتھ قریبی سکیورٹی تعلقات پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایران اور اس کے اتحادیوں کے میزائلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مربوط کرنا ہے۔

ایران کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں، ایران کے تیزی سے بڑھنے والے جوہری پروگرام، اور ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی اتحادیوں کی جانب سے علاقائی میزائل حملوں میں اضافے کے باعث اس منصوبے کو تقویت ملی ہے۔

بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے کوئنسی انسٹی ٹیوٹ فار ریسپانسبل سٹیٹ کرافٹ کے پال پِلر اسے ‘ایران کے خلاف عسکری اتحاد’ قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘اسرائیلی نقطۂ نظر اور خلیجی عرب ممالک کے نقطۂ نظر سے یقیناً یہ تمام تر اقدامات ایران کے خلاف دشمنی اور جارحیت پر مبنی ہیں۔’

تاہم اس اجلاس میں کسی بڑے فیصلے یا پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کوئی خفیہ تعاون کر رہا ہے، لیکن وہ فلسطینی تنازع کو حل کیے بغیر آگے بڑھنے سے ہچکچا رہا ہے۔

تاہم اس سلسلے میں چند چھوٹے فیصلے متوقع ہیں جیسا کہ سعودی فضائی حدود میں اسرائیلی پروازوں کی اجازت، اسرائیل اور مقبوضہ غرب اردن سے مکہ کے لیے مسلمان زائرین کے لیے براہ راست پروازیں، اور بحیرۂ احمر میں مصر اور سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو سمندری راستہ فراہم کرنے کی ضمانت وغیرہ۔

صدر بائیڈن کے سیاسی نقصان کا کیا ہو گا؟

امریکہ میں تمام نظریں صدر بائیڈن اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔ صدر بائیڈن نے حقوق انسانی کے تحفظ کی برادری کو اپنے اس دورے سے کافی مایوس کیا ہے لیکن ان کا یہ فیصلہ انھیں اپنی ہی ڈیموکریٹک جماعت میں بھاری سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دونوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اس دورے کو ‘فتح’ میں بدلنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اگر وہ اس دورے میں حقوق انسانی کے تحفظ سے متعلق خدشات پر واضح طور پر بات کریں۔

دونوں فریقین صدر بائیڈن پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے دورے کے دوران سعودی عرب پر سیاسی قیدیوں کی رہائی اور کارکنوں پر سفری پابندیوں سمیت دیگر پابندیوں کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ صدر بائیڈن عوامی طور پر اس مطالبے کو دہرائیں کہ خاشقجی کے قاتلوں کا احتساب کیا جائے۔

امریکی کانگریس کی چھ کمیٹیوں کے سربراہوں نے ایک مشترکہ خط میں صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی سرکردگی میں قائم اتحاد کے یمن پر حملوں کو بند کرنے کی حمایت جاری رکھیں۔

سعودی عرب نے رواں برس اس جنگ میں اپنے موقف میں نرمی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے اور یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھایا ہے۔ صدر بائیڈن نے ان اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امن کے لیے مزید کوششوں کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

محمد بن سلمان