سعودی عرب امریکہ سے کیا چاہتا ہے؟

Spread the love

درحقیقت محمد بن سلمان نے، جو خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری اپنی سکیورٹی فورسز کے بدمعاش عناصر پر ڈالتے ہیں، متعدد امریکی مطالبوں کو پورا کیا ہے اور وہ اس کے بدلے میں امریکہ کے ساتھ از سر نو تعلقات کے خواہاں ہے جس کا آغاز وہ ایک مضبوط دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔

سابق امریکی انٹیلیجنس اہلکار جوناتھن پانیکوف کا، جو اب اٹلانٹک کونسل کے ساتھ ہیں، کہنا ہے کہ سعودی عرب بھی صدر بائیڈن کے ارادوں کے متعلق وضاحت چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ایسا نہیں تھا کہ صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالا اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو تبدیل کر دیا۔ یہ پچھلے 18 مہینوں سے سرد مہری کا شکار ہیں اور کسی کو نہیں معلوم کہ یہ کس طرف جا رہے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘تعلقات کے بارے میں ابہام بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ اب تک جو چیز واضح ہے وہ یہ پیغام ہے کہ ہاں ہم آپ کے اتحادی بننے والے ہیں، یا نہیں، ہم آپ کے اتحادی نہیں بن رہے۔’

واشنگٹن میں محمد بن سلمان کے ملک میں اصلاحات کا دفاع کرنے والے ایک مصنف اور مبصر، علی شہابی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس دورے کو ‘تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس نظر سے بھی دیکھتا ہے کہ سلطنت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ اس بات کی توثیق ہے۔’

ٹرمپ اور محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

کیا صدر بائیڈن بھی وہ ہی کر رہے ہیں جو ٹرمپ نے کیا؟

صدر بائیڈن نے اس تاثر کو دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ جمہوریت اور حقوق انسانی کے چیمپیئن ہونے کے دعوؤں کے باوجود، ان کی مشرق وسطیٰ کی پالیسیاں اپنے پیشرو سے کچھ مختلف نظر آتی ہیں۔

حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ کے ایک کالم میں انھوں نے لکھا کہ ‘ہم نے ورثے میں ملنے والی بلینک چیک کی پالیسی کو بدل دیا ہے۔’

مگر انھوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ یورپ میں جاری جنگ نے ان کے خطے، خصوصاً سعودی عرب کی سٹریٹیجک اہمیت، کے بارے میں نقطۂ نظر کو تبدیل کرنے میں مدد دی ہے۔

سعودی عرب نے امریکی تعلقات میں سرد مہری کے دوران روس اور چین سے تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے لیے امریکی دباؤ کی مزاحمت کی ہے۔ واضح رہے کہ محمد بن سلمان کے روسی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

صدر بائیڈن نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ‘ہمیں روسی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی خود کو بہترین ممکنہ حالت میں رکھنا ہے اور دنیا کے اہم خطے میں زیادہ استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔ اور یہ سب کچھ کرنے کے لیے ہمیں براہ راست ان ممالک سے بات کرنا ہو گی جو نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب ان میں سے ایک ہے۔’

جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک طویل المدتی لین دین پر مبنی ہیں وہیں بائیڈن کی سیاست کو یہ خطرہ ہے کہ ان کے دورہ کے بعد جمال خاشقجی کی موت پر کوئی بامعنی جوابدہی نہ ہونے کا خدشہ ہے۔