امریکی صدر کے دورۂ سعودی عرب میں کیا اہم رہے گا: اسرائیل سے تعلقات، تیل یا دو طرفہ دفاعی تعاون؟

Spread the love

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر جو بائیڈن کے دورۂ سعودی عرب کا اعلان کیے جانے کے اگلے ہی دن واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے باہر سماجی کارکنوں کا ایک گروہ ‘خاشقجی کی طرح ‘ کے نام سے مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھا ہو گیا تھا۔

انھوں نے اعلان کیا کہ یہ ان سفارت کاروں ‘جو دروازے کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں’ روزانہ کی بنیاد پر ایک یاد دہانی ہو گی کہ سنہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے۔

اور انھوں نے صدر بائیڈن کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دینے پر انھیں ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اس مظاہرے میں شریک جمال خاشقجی کی منگیتر کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ نے اصولوں پر تیل اور اقدار پر مصلحت کو ہی ترجیح دینی ہے تو کم از کم کیا آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ جمال کی لاش کہاں ہے، کیا وہ مناسب اور باقاعدہ تدفین کا حقدار نہیں ہے؟’

صدر بائیڈن کا دورۂ سعودی عرب اتنا متنازع کیوں؟

بائیڈن

سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط تعلقات میں روایتی طور پر امریکی اقدار اور سٹریٹجک مفادات کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات شامل ہیں۔

مگر صدر بائیڈن نے واضح طور پر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا تھا لیکن اب وہ بھی بدلتے حالات کے پیش نظر سیاسی حقیقتوں کے سامنے جھک گئے ہیں۔ اور انھیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنی اقدار پر مبنی ساکھ کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔

خاشقجی کے بہیمانہ قتل نے واشنگٹن کی متعصبانہ تقسیم کے دونوں فریقوں کو متحد کر دیا تھا۔ صحافی اور سعودی ولی عہد کے نقاد، خاشقجی کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں قائم سعودی سفارت خانے میں قتل کرنے کے بعد ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے تھے۔

بطور صدارتی امیدوار بائیڈن نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خراب صورتحال کے باعث اس سے ‘تعلقات ختم’ کرنے کا عزم کرتے ہوئے ایک واضح لکیر کھینچی تھی۔ انھوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب کی غیر مشروط قبولیت کے برعکس سیاسی بیانیے کو اپنایا تھا۔

سابق صدر ٹرمپ نے ایک بار کہا تھا کہ انھوں نے خاشقجی کے قتل سے پیدا ہونے والے ’اشتعال سے (محمد بن سلمان کی)گردن بچائی ہے۔’

صدر بائیڈن کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اقتدار میں آنے کے بعد صدر بائیڈن نے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کرتے ہوئے شہزادہ سلمان سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اس بارے میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ میں اس حوالے سے شکوک و شبہات تھے کہ کیا یہ اس شخص کے لیے ایک مناسب پالیسی ہے جو جلد ہی سعودی عرب کا حکمران بن جائے گا۔

مگر گذشتہ برس سے اس پالیسی میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور روس کے یوکرین پر حملے نے صدر بائیڈن کو عوامی سطح پر اسے تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔

اس کی سب سے بڑی وجہ تیل کی بڑھتی قیمتیں تھی۔ امریکہ نے سعودی عرب سے درخواست کی تھی کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت کم کرنے کے لیے وہ مزید پیداوار بڑھائے۔ ریاض نے ابتدائی طور پر ان کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

مگر صدر بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کے اعلان سے چند دن پہلے عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کی نگران تنظیم اوپیک پلس نے، جس کا سعودی عرب سربراہ ہے، تیل کی معمولی پیداوار بڑھانے کی منظوری دی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں تیل کی موجودہ پیداوار کے کوٹے کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد پیداوار میں مزید معمولی اضافے کے لیے سعودیوں کے ساتھ خاموش معاہدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن صدر کے دورے کے دوران اس کے تذکرے کا امکان نہیں ہے۔

سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹیڈیز کے ماہر توانائی، بین کاہل کہتے ہیں کہ اس دورے میں حالیہ مشکل دور میں انرجی مارکیٹ کے طویل المدتی انتظام پر توجہ مرکوز ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں وائٹ ہاؤس میں یہ احساس ہے کہ انھیں فون اٹھانے اور بہت سی تنظیموں سے، خصوصاً تیل کی دنیا میں جو سعودی عرب سے شروع ہوتی ہے، تعمیری بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔’