چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں مددگار ایرانی طیارے میں کیا خاص ہے؟

چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں مددگار ایرانی طیارے میں کیا خاص ہے؟

  • محمد کاظم، طاہر عمران
  • بی بی سی اردو کے لیے
یہ تصویر منگل کو نور خان ایئربیس سے پرواز کے وقت اس وقت اتاری گئی جب یہ طیارہ سپرے کرنے بلوچستان جا رہا تھا

،تصویر کا ذریعہMUHAMMAD UMAR AZIZ

بلوچستان کے ضلع شیرانی میں چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے کے مشن میں منگل کو ایران کے آگ بجھانے والے خصوصی طیارے نے بھی پہلی بار حصہ لیا۔

اس طیارے کا نام ال یوشین ال۔76 (Ilyushin Il-76) ہے۔

محکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششوں میں یہ ایک بڑی کاوش ہے جس کے دوران اس بڑے طیارے سے متاثرہ علاقوں میں پانی کا چھڑکاﺅ کیا گیا۔

حکام کے مطابق 18 مئی سے لگنے والی آگ سے شیرانی کے جنگلات کا 36 مربع کلومیٹر علاقہ متاثر ہوا ہے اور آگ پر اب تک 87 سے 90 فیصد تک قابو پالیا گیا ہے۔

’اگر یہ جہاز پہلے آتا تو شاید آگ تین چار روز پہلے بجھ جاتی‘

اگرچہ حکومت بلوچستان نے ایران سے اس جہاز کے لیے کئی روز پہلے درخواست کی تھی لیکن یہ ضلع شیرانی میں شرغلی کے مقام پر لگنے والی آگ کے ساتویں روز پہنچا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ سنیچر کو متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ حکومت بلوچستان نے اس فائٹر جہاز کے لیے درخواست کی ہے۔ تاہم جہاز پیر کو ایران سے اسلام آباد پہنچا۔

شیرانی سے فون پر بلوچستان کے سیکریٹری جنگلات دوستین جمالدینی نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک جہاز نے دو مرتبہ جنگل کے متاثرہ علاقے میں پانی کا چھڑکاﺅ کیا ہے۔

اس سوال پر کہ یہ طیارہ آگ بجھانے کی کوششوں میں کتنا مؤثر ثابت ہو رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’زبردست اور بڑی کاوش‘ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگر یہ جہاز پہلے آجاتا تو شاید تین چار روز پہلے ہی آگ پر قابو پا لیا جاتا۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ ایرانی طیارے نے اپنا پہلا سپرے کر دیا ہے جبکہ دوسرے سپرے کی تیاریاں ہو رہی ہے۔

حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ ایرانی طیارہ ایک ہی مرتبہ میں 40 میٹرک ٹن تک پانی برسا سکتا ہے جو کہ 14 ہیلی کاپٹرز کے برابر ہے۔

2px presentational grey line

ایرانی الیوشین طیارہ کیا کر سکتا ہے؟

مواد پر جائیں

پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بلوچستان کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں مدد کے لیے ایران کی حکومت کے بھجوائے ہوئے طیارے نے منگل سے کام شروع کر دیا ہے۔ منگل کو علی الصبح یہ طیارہ راولپنڈی کے نور خان ایئربیس سے چھ بج کر گیارہ منٹ پر اڑا اور بلوچستان میں کام پورا کرنے کے بعد واپس راولپنڈی پہنچ گیا۔

ایرانی حکومت نے گذشتہ دنوں یہ دیوہیکل آگ بجھانے والا طیارہ پاکستان بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ طیارہ 23 مئی کو راولپنڈی کے نورخان ایئربیس پر اترا تھا۔

ایران کی حکومت کے اس طیارے کی رجسٹریشن EP-BHC ہے اور یہ روسی ساختہ طیارہ ہے جسے روسی طیارہ ساز کمپنی ال یوشین تیار کرتی ہے۔

کوئٹہ کے ہوائی اڈے کے مرکزی رن وے کی بندش کے سبب اس طیارے کو وہاں نہیں اتارا جا سکا جس کی وجہ سے امکان ہے کہ یہ ساری کارروائی راولپنڈی سے کرے گا۔

یہ طیارہ چالیس ٹن کے قریب پانی لے کر پرواز کر سکتا ہے اور اس سے قبل ترکی، آرمینیا، شام، عراق اور جارجیا میں ایرانی حکومت کی جانب سے آگ بجھانے کا کام کر چکا ہے۔

ایران میں اس کے علاوہ ایک اور روسی ساختہ طیارہ ٹوپولیو 154 بھی آگ بجھانے کے لیے دستیاب ہے مگر اس کی گنجائش اس بڑے طیارے کی نسبت کم ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اس کے ساتھ کے چار طیارے ہیں جن کو پاکستانی فضائیہ فضا سے فضا میں ایندھن بھرنے کے کام کے لیے استعمال کرتی ہے۔

پاکستانی فضائیہ نے یہ چاروں طیارے Il-78 جنھیں مڈاس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دسمبر 2008 سے 2012 کے درمیان حاصل کیے تھے۔

2020 میں پاکستانی فضائیہ نے ان طیاروں کی اپ گریڈیشن کا ٹھیکہ یوکرین کی اس کمپنی کو دیا تھا جہاں سے یہ طیارے حاصل کیے گئے تھے۔

2px presentational grey line

اب تک آگ پر کتنا قابو پایا جا چکا ہے؟

شیرانی میں چلغوزے کے جنگل میں آگ

،تصویر کا ذریعہYAYA MUSAKHEL

،تصویر کا کیپشنشیرانی میں چلغوزے کے جنگل کی آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے لیکن ابھی بھی ایک بڑے علاقے میں آگ لگی ہوئی ہے

سیکریٹری جنگلات دوستین جمالدین نے بتایا کہ شیرانی میں آگ سے جو علاقہ متاثر ہوا ہے وہ مجموعی طور 36 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا حکومت بلوچستان نے تمام دستیاب وسائل کو آگ بجھانے کی کوششوں میں لگایا جبکہ اس کے علاوہ محکمے کو وفاقی اداروں کی معاونت حاصل رہی۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ آگ پر اب تک 87 سے 90 فیصد قابو پایا جا چکا ہے جبکہ اس پر مکمل قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں انگارے ہیں جنھیں بجھائے بغیر آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جاسکتا۔