عمران خان کہیں تو آدھے گھنٹے میں اسمبلی توڑ دوں گا: پرویز الٰہی شیرانی کےجنگلات میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا پاکستان کی آئی ایم ایف کو رواں ہفتے ہی تیل بجلی پر سبسڈی میں بڑی کمی کی یقین دہانی راجہ ریاض کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے درخواست جمع چیئرمین نیب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی عائد کر دی وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچ گئے اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں نامزد وکلا پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ ملکی معیشت میں بہت جلد بدلاؤ دیکھ رہے ہیں: وزیر خزانہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف کیخلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے منظور گندم کی قلت، کراچی میں آٹا 100 روپے کلو ہو گیا سعودیہ سے مذاکرات ہوگئے، حج اخراجات میں کمی لائیں گے: وزیر مذہبی امور کراچی میں ٹریکر کے ذریعے عادی مجرموں پر نظر رکھنے کا منصوبہ پی ٹی آئی حکومت نے سب سے زیادہ قرض لینے کا ’اعزاز‘ حاصل کر لیا بجلی 4 روپے فی یونٹ سے زائد مہنگی کرنے کی درخواست عمران خان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تحت روس کا دورہ کیا، وزیرخارجہ بلاول بھٹو
راجن پور /محمد پور میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ راجن پور: طلبہ کا انڈس ہائی وے بلاک کر کے احتجاج راجن پور: طلبہ کی جانب سے امتحانات کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج راجن پور: مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش : پولیس راجن پور: بلاک ٹریفک پر امن کھلوانے کی کوشش:پولیس راجن پور: مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ راجن پور: پتھراؤ کے نتیجے میں تھانہ محمد پور پولیس کے دو اہلکار زخمی راجن پور: زخمی اہلکاروں علاج معالجہ کے لیئے ہسپتال منتقل راجن پور: پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز مردان: فائرنگ / میاں بیوی جانبحق مردان: رستم کے علاقہ جمڈھیر میں فائرنگ:ریسکیو1122 مردان: بھائی کے فائرنگ سے بھاِئی اور بھابھی جانبحق مردان: جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی : پولیس مردان: ریسکیو1122 کی ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی رمردان: 35 سالہ خالد بیوی سمیت ہسپتال منتقل: ریسکیو1122 مردان:ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی منکیرہ/ٹرانسفارمر خراب منکیرہ:محلہ چھینہ والا کا ٹرانسفارمر 4 دن سے خراب،اہل علاقہ کو شدید مشکلات منکیرہ :لوڈ بڑھ جانے کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن گیا منکیرہ :ٹرانسفارمر 25 کے وی کا نصب تھا جوکہ لوڈ برداشت نہ کرسکا منکیرہ :علاقہ مکینوں نے متعدد بار ٹرانسفارمر کو مرمت کروایا منکیرہ : قریبی ٹرانسفارمر پر منتقلی کے بعد وولٹیج کی کمی پوری نہ ہوسکی منکیرہ :شدید گرمی کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا منکیرہ:فریج،موٹرز،دیگر گھریلوں اشیاء کم وولٹیج کی وجہ سے جل گئیں منکیرہ:ایس ڈی او واپڈا افسران فوری طور پر ایکشن لیکر ٹرانسفارمر نصب کروائیں منکیرہ : نیا ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکا ، احتجاج کرنے پر مجبور ،اہل محلہ فیصل آباد /خون سفید ہوگیا فیصل آباد : بھائی نے بھائی پر مبینہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا:پولیس فیصل آباد : لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے سول ہسپتال لایا گیا : پولیس فیصل آباد : وقوعہ تھانہ صدر کے علاقہ نواحی گاؤں 175 گ ب میں پیش آیا:پولیس فیصل آباد : پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی:پولیس فیصل آباد : مقتول کا نام عمر فاروق بتایا جاتا ہے:ایس ایچ او مہر ریاض فیصل آباد : جلد ہی قتل کی وجہ معلوم کر لیں گے:پولیس ننکانہ صاحب/خون سفید ہونے لگے ننکانہ صاحب : زمینی تنازعہ ، بھائی نے بھائی کو گولی مار دی: زرائع ننکانہ صاحب: گولی لگنے سے50 سالہ محمد عارف شدید زخمی: زرائع ننکانہ صاحب: زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہ کوٹ منتقل : زرائع چنیوٹ/ ویکسینیشن سنٹرزکا دورہ چنیوٹ:ڈپٹی کمشنر کاکورونا ویکسینیشن سنٹرز لالیاں اور چناب نگر کا دورہ چنیوٹ:انتظامات و سہولیات کا جائزہ لیا اور ریکارڈ کو چیک کیا چنیوٹ: ان جنچارجز سنٹرز کو مناسب ہدایات جاری کیں منڈی احمد آباد/سیل دوکانوں کا معاملہ منڈی احمد آباد: قائمہ کمیٹی براۓ ریلوے کے چیئرمین معین وٹو کا منڈی احمد آباد کا دورہ منڈی احمد آباد: ریلوے حکام کی جانب سےسیل دکانوں پر آگاہ کیا گیا منڈی احمد آباد:سیل دوکانے جلد بحال کروانے کا فیصلہ منڈی احمد آباد:ریلوے کرائےمیں کمی کی کوشش کریں گے:معین وٹو لیہ /گھریلو جھگڑا لیہ:چوبارہ معمولی تکرار پر جھگڑا ،گولیاں چل گئیں لیہ:1 خاتون سمیت 4 افراد زخمی:پولیس لیہ:چکنمبر 311 ٹی ڈی اے میں 3 افراد نے معمولی رنجش پر رشتے داروں پر فائرنگ کر دی:پولیس لیہ:زخمیوں میں باپ 2 بیٹے اور ان کی پھوپھو زہرہ بی بی شامل ہیں:پولیس لیہ:زخمی ہسپتال منتقل ،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب:پولیس لیہ:3 زخمی حالت تشویش ناک ہونے پر نشتر ریفر لیہ: ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد گرفتار کر لیا جائے گا:ایس ایچ او ساہیوال /سنٹرل جیل میں کرپشن کا معاملہ ساہیوال: سپرٹینڈنٹ جیل ،ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سمیت 10 جیل ملازمین معطل ساہیوال:سپریٹنڈنٹ منصور اکبر اور دیگر ملازمین پر ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام ساہیوال:سپیشل برانچ کی سورس رپورٹ پر نٹینڈنٹ جیل اور عملہ معطل ساہیوال: رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل میں ماہانہ 81 سے 90 لاکھ تک کی کرپشن کی جا رہی ہے ساہیوال:ڈی ائی جی طارق محمود کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ساہیوال: کرپشن انکواری رپورٹ یکم جون کو پیش کرنے کا حکم ساہیوال: تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لیں:ڈی ائی جی ظاہر پیر : قومی شاہرہ موچی والا کے قریب دو کنٹینر آپس میں ٹکرا گئے ظاہر پیر : حادثہ کے نتیجہ میں دونوں کنٹینرز روڈ پر الٹ گئے ظاہر پیر : کنٹینرز میں ہارڈ بورڈ شیٹس اور نمک لوڈ تھا ظاہر پیر : ظاہر پیر : حادثہ نیند آنے کے سبب پیش آیا ظاہر پیر: دو شخص معمولی زخمی ،طبی امداد دی گئی ظاہر پیر : ریسکیو 1122 نے کنٹینرز ہٹا کر ،روڈ ٹریفک کیلئے کلیر کر دیا

گورے کا دور Two Centuries of Terror

تحریر:(سردارمحمدجاویدخاں) کیاآپ جانتے ہیں ججزاور وکیل اپنے لئے سیاہ رنگ کے لباس کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟

تقسیم ہند سے قبل کا ایک واقعہ آپ کو سب سمجھا دےگابرصغیر‘ جو کبھی دنیا کا سب سے خوشحال اور امیر علاقہ تھا‘ دو سو سال کی استعماریت اور لوٹ کھسوٹ کے بعد‘ بظاہر آزادی حاصل کر لینے کے بعد بھی‘ نہ صرف پسماندگی کا شکار ہے بلکہ ابھی تک کسی نہ کسی طرح مغرب ہی کے زیرِ تسلط چلا آ رہا ہے۔
فرق صرف یہ پڑا ہے نامور کالم نگار ڈاکٹر منور صابراپنےایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔!!! کہ برطانیہ کی جگہ اب یہاں امریکا کا حکم نما اشارہ چلتا ہے۔ یہ پورا خطہ پہلے بر صغیرکہلاتا تھا مگر اب اسے جنوبی ایشیا کہتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ چار کالموں میں اس پر برطانوی راج میں روا رکھے جانے والے اس سلوک کا جائزہ لیا جو عام آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے‘ بلکہ یوں کہیں کہ رکھا جاتا ہے۔ ہم جب مطالعہ پاکستان اور تاریخِ پاکستان کی کتابوں کو دیکھتے ہیں تو اس اہم ترین موضوع کا ذکر نہ ہونے کے برابر ملتا ہے جو کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح اس موضوع پر بھارتکی فلم انڈسٹری‘ جو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری سمجھی جاتی ہے‘ نے بھی کوئی قابلِ ذکر فلم نہیں بنائی۔ البتہ داد دینا پڑتی ہے بھارتی پنجاب کے سکھوں کو‘ جنہوں نے نہ صرف اس موضوع‘ بالخصوص جلیانوالہ باغ سانحے‘ پر فلمیں بنائی ہیں بلکہ گاہے گاہے دیگر موضوعات پر بننے والی فلموں میں بھی اس قصے کو چھیڑتے رہتے ہیں۔ سکھوں نے خاص طور پر تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والے مظالم کو موضوع بنا کر بہت ساری فلمیں بنائی ہیں‘ اس سلسلے میں گزشتہ سال اُدھم سنگھ پر ایک ہیوی بجٹ فلم بھی بنائی گئی ہے۔
اب بات برطانیہ کے دو سو سالہ جابرانہ اقتدار کے کچھ دیگر امور کی۔ برطانیہ والے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس خطے کو تعلیم دی۔ اس بیانیے کی یہ حقیقت تو بیان کی جا چکی ہے کہ تاجِ برطانیہ کے جانے کے وقت اس خطے کی کلشرحِ خواندگی بیس فیصد سے بھی کم تھی۔ عالمی شہرت یافتہ وِل ڈیورنٹ نے لکھا ہے کہ برطانیہ اس خطے پر جتنا ٹوٹل بجٹ تعلیم پر خرچ کرتا تھا وہ امریکا کی ایک ریاست‘ نیو یارک کی دسویں کلاس (سکول لیول) تک تعلیم کے بجٹ کا لگ بھگ نصف ہوتا تھا۔
یہ موازنہ 1930ء کے قریب کا ہے۔ اس وقت نیو یارک ریاست کی کل آبادی سوا کروڑ تھی جبکہ برصغیر کی آبادی 35 کروڑ سے زائد تھی۔ اب ان دونوں کے تعلیمی اخراجات کا موازنہ کیسے کیا جائے جہاں آبادی اٹھائیس گنا سے بھی زیادہ کا فرق تھا۔ ایک پورے خطے کا تعلیمی بجٹ امریکا کی ایک ریاست کے میٹرک تک کے بجٹ کا بھی نصف۔ اگر گورا یہاں میٹرک تک ہی کی تعلیم کو عام کرنا چاہتا تو اس کے لیے بھی اس بجٹ کو کم از کم 50 گنا تک بڑھانا پڑنا تھا کیونکہ آبادی کا فرق اٹھائیس گنا سے زیادہ تھا اور بجٹ نصف کے برابر تھا۔ ویسے یہ فرق 56 گنا بن جاتا ہے‘ جسے شاید فرق کہنا بھی مناسب نہیں ہے بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ برصغیر کی تعلیم کے لیے برطانیہ کا مختص کردہ بجٹ اس کی نیت سے بھی کہیں کم تھا۔ برطانیہ کا اگلا دعویٰ اس خطے کو جمہوری نظام دینے کا ہے۔ کتنا عجیب لگتا ہے کہ ایک ڈکٹیٹر سے بھی سخت گیر حاکم جمہوریت کی بات کرتا ہے۔ چلیں‘ اگر اسدعوے کو ایک لمحے کے لیے تسلیم کرتے ہوئے تحقیق کریں تو علم ہوتا ہے کہ جمہوری نظام محض صوبائی سطح پر الیکشنوں کی حد تک محدود تھا اور اس میں بھی اوسطاً اڑھائی سو افراد میں سے ایک بندے کو ووٹ کاحق حاصل تھا جبکہ پہلی بار 1937ء میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا، یوں گورے کی جمہوریت کا اصل دورانیہ دس سال بنتا ہے۔اب اگر گورے کے نظامِ حکومت میں عام آدمی پر ہونے والے مظالم کی بات کی جائے تو اس کی دو صدیوں کو Centuries of Terror کہا جا سکتا ہے۔ اگر لفظ ‘ٹیرر‘ کی ابتدا دیکھیں تو پتا چلتا ہے فرانس میں انقلاب کا آغاز ہونے کے بعد‘ 1793ء سے 1794ء تک‘ ایک سال سے بھی کم عرصے کے دوران ایک ایسا وقت بھی گزرا کہ جس میں ہر اس شخص کو قتل کردیا جاتا تھا جس پر شک ہوتا تھا کہ وہ انقلاب کی مخالفت کرتا ہے۔ اس دوران ہزاروں بے گناہ لوگ مارے گئے تھے اس لیے اس عرصے کو Reign of Terror یعنی ‘دہشت کا دورِ اقتدار‘ کہا جاتا ہے۔ Terrorism لفظ کی ابتدا یہیں سے ہوئی تھی۔ اس سے قبل کہیں بھی ٹیررازم یا کوئی ایسی اصطلاح پڑھنے کو نہیں ملتی۔ اب آپ خود سوچیں کہ کتنی عجیب بات ہے کہ گورے کے ظلم‘ جس میں عام آدمی 1793ء کے انقلابِ فرانس کے استبداد سے بھی پہلے سے مارے جارہے تھے‘ کے لیے کوئی اصطلاح تک وضع نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ اس کالم سیریز کا ایک مقصد برطانوی دور کو مد نظر رکھتے ہوئے اس دور کے جبر و استبداد کو ایک نیا نام دینا بھی ہے۔گورے کی آمد کے بعد اس خطے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان پیدا ہونے والے خلیج نما فاصلے اپنی طرز کا ایک انوکھا ظلم ہیں۔ البتہ اس حکمتِ عملی کو عام لوگوں میں کسی حد تک محسوس کیا گیا اور بیان بھی کیا جاتا ہے۔ آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ گورے کی حکمتِ عملیDivide & Rule کی بات ہو رہی ہے۔ یہاں ایک انتہائی دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین تقسیم اور تفریق کے سبب ہی مسلمان وکیل اپنے نام کے ساتھ مولوی کا ٹائٹل لگانے پر مجبور ہوتے تھے۔
نظامِ عدل کی بات کریں تو عدالتی چھٹیوں کی رسم گورے کی ہی دین ہے۔ گورے جج گرمیوں میں چھٹیوں پر برطانیہ چلے جاتے تھے‘ گویا انصاف کی بھی چھٹی ہو جاتی تھی۔اسی طرح دسمبر کے آخری دنوں میں کرسمس منانے کیلئے بھی وہ برطانیہ چلے جاتے تھے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ چھٹیوں کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ججز اور وکیلوں کیلئے سیاہ رنگ کے لباس کا انتخاب بھی برطانیہ ہی کی دین ہے۔ چونکہ برطانیہ میں سردی زیادہ پڑتی ہے اور کالے رنگ کے کپڑے میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ سورج کی شعاعوں اور حدت کو جذب کرتا ہے‘ اس لیے گورے نے سیاہ رنگ کا چناو کیا؛ تاہم برصغیر میں بھی اسے ہی رائج کیا گیا۔ اس کے ساتھ کوٹ کا استعمال بھی برطانیہ میں سردی کی وجہ سے کیا جاتا تھامگر اس خطے میں گرمی نہ صرف شدید ہوتی ہے بلکہ اس کا دورانیہ بھی زیادہ ہوتا ہے‘ اس کے باوجود یہ سلسلہ یہاں بھی شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔اس خطے سے جاتے وقت گورے کیجانب سے روا رکھی جانے والی ناانصافی کا خمیازہ یہ خطہ ابھی تک بھگت رہا ہے۔ تقسیم کرتے ہوئے ایسی ایسی ناانصافیاں کی گئیں کہ ابھی تک یہ خطہ سنبھل نہیں سکا۔ مشرقی پاکستان میں بھی تقسیم کے اصولوں کے تحت پورا علاقہ نہیں دیا گیا اور تقسیم کا نقشہ بہت پیچیدہ رکھا گیا۔ آج تک‘ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد بھی‘ بھارت اوربنگلہ دیش میں سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ اسی طرح کشمیر کا مسئلہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔ پاکستان کو اس کے حصے کے معاشی و فوجی اثاثے نہ دیے گئے۔ ایک انتہائی ظالمانہ غفلت‘ جو جان بوجھ کر برتی گئی‘ تقسیم کے وقت ہجرت کا ماحول پیدا کر دینا ہے۔ اس دوران دنگوں اور فسادات میں مارے جانے والوں کی تعداد لاکھوں بلکہ ملینز میں ہے۔ کتنے ہی خاندان بچھڑ کر رہ گئے۔ اس سلسلے کی ایک تصویر آپ نے حالیہ دنوں میں کرتارپور پر بھی دیکھی ہو گی۔ اُس وقت اس خطے میں موجود برطانیہ کی آرمی کی تعداد دس سے پندرہ لاکھ تھی۔ اگر ایک لاکھ فوجی بھی پنجاب میں تعینات کر دیے جاتے اور اپنے ”فخریہ‘‘ ریلوے نظام کے تحت سپیشل ٹرینیں چلائی جاتیں اور ہر ٹرین پر ایک سو فوجی حتیٰ کہ مسلح پولیس والے ہی تعینات کر دیے جاتے تو یقینا اس خون خرابے کو روکا جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر ہجرت کے لیے چھ ماہ سے ایک سال کا عرصہ دیا جاتا تو لوگوں کا جانی و مالی نقصان کم سے کم ہوتا مگر یہاں اس قسم کے حالات جان بوجھ کر پیدا کیے گئے جس کا ایک مقصد خطے کو پسماندہ اور آپس کی رنجشوں میں الجھائے رکھنا تھا۔ اس کے لیے Pogrom کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے کہ جان بوجھ کر فسادات کی راہ ہموار کی جائے۔ اس کا چرچا بھی صرف سکھ ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سوال قارئین کیلئے چھوڑے جا رہا ہوں کہ ان دو سوسالوں کیلئے کسی اصطلاح کا مطالبہ پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش کی سرکاروں کو کرنا چاہیے کہ نہیں؟ آج کی اصطلاح گورے کے کھیل کرکٹ کی مناسبت سے ہے کہ گورے کا دور Two Centuries of Terror تھا۔

Introduction:

Tum News represnts Pakistan…. everywhere globe of the World.It’s international channel… based on London … landing rights 19 countries in the world including Middle East, Europe, UK, USA, Canada, Malaysia and Pakistan.

Sattilite in Pakistan: AsiaSat 7 Also IpTv, Apple Tv, Andiord Tv, Amazon Tv, Roku, Jadoo TV, Jadoo box, Jadoo 5s, Google TV, ebaba…. etc

Tum news|Ruku Channel Store

https://channelstore.roku.com/en-ca/details/31c9eadf684f1f9b3dc900e40c67ea74/tum-news

APP

IOS: https://apps.apple.com/ca/app/tum-news/id1591814293

Android: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.live247stream.popularnewstv

Social media

Youtube

Tum News Live: https://www.youtube.com/channel/UCT3sBnwEB-X3r_tqb-u4fQg

Tum News: https://www.youtube.com/channel/UC3AzH8rdkiO_59RNU2jRlQg

Facebook:

: https://www.facebook.com/Tum-News-Live-101181202396831/

Twitter:

Tum News01: https://twitter.com/tumtvofficial

Insta :

Tum News01: https://www.instagram.com/tumtvofficial

Tum news Live :Website

https://tumtv.co.uk/

Office in Pakistan

Head office: Lahore

Sub office: Islamabad,Faisalabad,Okara,Multan,Karachi,Gawadar

650 representers (who work for Tum News) in Pakistan

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on google
Google+