دوستوں کیساتھ شراب نوشی کرنے پر دلہن نے دوسرے شخص سے شادی کرلی  انسٹاگرام کا اسٹوریز فیچر صارفین میں انتہائی مقبول ایک کسی صارف کے گروپ چھوڑتے وقت تمام گروپ ممبران کو اس کی اطلاع ملنا، واٹس ایپ میں اس فیچر کو جلد بدل دیا جائے گا ہارون آباد میں شدید گرمی ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام ہیٹ ویو کیمپ قائم کردیا گیا، کامونکی پولیس کی کاروائی۔ ننکانہ صاحب محکمہ اوقاف لاکھوں روپے رشوت لے کر پہلے تو اوقاف کی زمینوں پر تعمیرات کرواتا ہے، پھر کسی بڑے آفیسر کو خوش کرنے کے لیے اپریشن کرکے گھر گرا دیتا ہے علاقہ مکینوں کی دوہایاں حویلی لکھامیں ملک وقار احمد نول ٹکٹ ہولڈر حلقہ این اے 144 پی ٹی آئی کی رہائش گاہ پر ورکرز کنونش کا اہتمام ٹیم امر بالمعروف حویلی لکھا کی سربراہی میں کیا گیا سری لنکا قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث اپنی تاریخ میں پہلی بار دیوالیہ ہوگیا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کو 34 سال پرانے کیس میں ایک سال کی سزا کے ساتھ ان پر جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں کے دوران ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالے گئے افراد کی فہرست طلب کرلی۔ کراچی بم دھماکوں کی تحقیقات میں اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ پی آئی اے نے کراچی سے دمشق کے لیے پروازیں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ خیرپور پولیس نے حساس اداروں کی مدد سے نیشنل ہائی وے پر کارروائی کرکے کنٹینر سے بارود برآمد کرلیا۔ اس حکومت نے آتے ہی ڈی جی ایف آئی اے ثناء اللہ عباسی کو ہٹایا، یہ نیب کو دھمکا رہے تھے لیکن سپریم کورٹ نے انہیں روک کر تاریخی اور سنہری فیصلہ دیا۔ بلاول کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران پروٹوکول کی سنگین غلطی
راجن پور /محمد پور میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ راجن پور: طلبہ کا انڈس ہائی وے بلاک کر کے احتجاج راجن پور: طلبہ کی جانب سے امتحانات کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج راجن پور: مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش : پولیس راجن پور: بلاک ٹریفک پر امن کھلوانے کی کوشش:پولیس راجن پور: مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ راجن پور: پتھراؤ کے نتیجے میں تھانہ محمد پور پولیس کے دو اہلکار زخمی راجن پور: زخمی اہلکاروں علاج معالجہ کے لیئے ہسپتال منتقل راجن پور: پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز مردان: فائرنگ / میاں بیوی جانبحق مردان: رستم کے علاقہ جمڈھیر میں فائرنگ:ریسکیو1122 مردان: بھائی کے فائرنگ سے بھاِئی اور بھابھی جانبحق مردان: جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی : پولیس مردان: ریسکیو1122 کی ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی رمردان: 35 سالہ خالد بیوی سمیت ہسپتال منتقل: ریسکیو1122 مردان:ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی منکیرہ/ٹرانسفارمر خراب منکیرہ:محلہ چھینہ والا کا ٹرانسفارمر 4 دن سے خراب،اہل علاقہ کو شدید مشکلات منکیرہ :لوڈ بڑھ جانے کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن گیا منکیرہ :ٹرانسفارمر 25 کے وی کا نصب تھا جوکہ لوڈ برداشت نہ کرسکا منکیرہ :علاقہ مکینوں نے متعدد بار ٹرانسفارمر کو مرمت کروایا منکیرہ : قریبی ٹرانسفارمر پر منتقلی کے بعد وولٹیج کی کمی پوری نہ ہوسکی منکیرہ :شدید گرمی کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا منکیرہ:فریج،موٹرز،دیگر گھریلوں اشیاء کم وولٹیج کی وجہ سے جل گئیں منکیرہ:ایس ڈی او واپڈا افسران فوری طور پر ایکشن لیکر ٹرانسفارمر نصب کروائیں منکیرہ : نیا ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکا ، احتجاج کرنے پر مجبور ،اہل محلہ فیصل آباد /خون سفید ہوگیا فیصل آباد : بھائی نے بھائی پر مبینہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا:پولیس فیصل آباد : لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے سول ہسپتال لایا گیا : پولیس فیصل آباد : وقوعہ تھانہ صدر کے علاقہ نواحی گاؤں 175 گ ب میں پیش آیا:پولیس فیصل آباد : پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی:پولیس فیصل آباد : مقتول کا نام عمر فاروق بتایا جاتا ہے:ایس ایچ او مہر ریاض فیصل آباد : جلد ہی قتل کی وجہ معلوم کر لیں گے:پولیس ننکانہ صاحب/خون سفید ہونے لگے ننکانہ صاحب : زمینی تنازعہ ، بھائی نے بھائی کو گولی مار دی: زرائع ننکانہ صاحب: گولی لگنے سے50 سالہ محمد عارف شدید زخمی: زرائع ننکانہ صاحب: زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہ کوٹ منتقل : زرائع چنیوٹ/ ویکسینیشن سنٹرزکا دورہ چنیوٹ:ڈپٹی کمشنر کاکورونا ویکسینیشن سنٹرز لالیاں اور چناب نگر کا دورہ چنیوٹ:انتظامات و سہولیات کا جائزہ لیا اور ریکارڈ کو چیک کیا چنیوٹ: ان جنچارجز سنٹرز کو مناسب ہدایات جاری کیں منڈی احمد آباد/سیل دوکانوں کا معاملہ منڈی احمد آباد: قائمہ کمیٹی براۓ ریلوے کے چیئرمین معین وٹو کا منڈی احمد آباد کا دورہ منڈی احمد آباد: ریلوے حکام کی جانب سےسیل دکانوں پر آگاہ کیا گیا منڈی احمد آباد:سیل دوکانے جلد بحال کروانے کا فیصلہ منڈی احمد آباد:ریلوے کرائےمیں کمی کی کوشش کریں گے:معین وٹو لیہ /گھریلو جھگڑا لیہ:چوبارہ معمولی تکرار پر جھگڑا ،گولیاں چل گئیں لیہ:1 خاتون سمیت 4 افراد زخمی:پولیس لیہ:چکنمبر 311 ٹی ڈی اے میں 3 افراد نے معمولی رنجش پر رشتے داروں پر فائرنگ کر دی:پولیس لیہ:زخمیوں میں باپ 2 بیٹے اور ان کی پھوپھو زہرہ بی بی شامل ہیں:پولیس لیہ:زخمی ہسپتال منتقل ،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب:پولیس لیہ:3 زخمی حالت تشویش ناک ہونے پر نشتر ریفر لیہ: ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد گرفتار کر لیا جائے گا:ایس ایچ او ساہیوال /سنٹرل جیل میں کرپشن کا معاملہ ساہیوال: سپرٹینڈنٹ جیل ،ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سمیت 10 جیل ملازمین معطل ساہیوال:سپریٹنڈنٹ منصور اکبر اور دیگر ملازمین پر ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام ساہیوال:سپیشل برانچ کی سورس رپورٹ پر نٹینڈنٹ جیل اور عملہ معطل ساہیوال: رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل میں ماہانہ 81 سے 90 لاکھ تک کی کرپشن کی جا رہی ہے ساہیوال:ڈی ائی جی طارق محمود کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ساہیوال: کرپشن انکواری رپورٹ یکم جون کو پیش کرنے کا حکم ساہیوال: تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لیں:ڈی ائی جی ظاہر پیر : قومی شاہرہ موچی والا کے قریب دو کنٹینر آپس میں ٹکرا گئے ظاہر پیر : حادثہ کے نتیجہ میں دونوں کنٹینرز روڈ پر الٹ گئے ظاہر پیر : کنٹینرز میں ہارڈ بورڈ شیٹس اور نمک لوڈ تھا ظاہر پیر : ظاہر پیر : حادثہ نیند آنے کے سبب پیش آیا ظاہر پیر: دو شخص معمولی زخمی ،طبی امداد دی گئی ظاہر پیر : ریسکیو 1122 نے کنٹینرز ہٹا کر ،روڈ ٹریفک کیلئے کلیر کر دیا

عمران کی میری مرضی

تحریر:(سردارمحمدجاویدخاں) پوری دنیا عمران خان کو سمجھاتی رہی لیکن یہ خواجہ سراء سے اولاد نرینہ کی امید لگا کر بیٹھے رہے

گراف (Groff) سوئٹزر لینڈ کی کمپنی ہے‘ ہیڈکوارٹر لوزرن میں ہے اور یہ بادشاہوں‘ شہزادوں اور ملکائوں کے لیے ہیروں اور جواہرات کی سپیشل پراڈکٹس بناتی ہے‘ یہ پراڈکٹس مارکیٹ میں نہیں ملتیں‘ صرف محلات میں جاتی ہیں اور وہیں استعمال ہوتی ہیں‘ گراف نے 2018ء میں سعودی عرب کے ولی عہد کے لیے دو سپیشل گھڑیاں بنائی تھیں‘ عمران خان بطور وزیراعظم جب 18 ستمبر 2018ء کو سعودی عرب کے پہلے دورے پر گئے توولی عہد نے وزیراعظم کو گراف کی گھڑی‘ دو ہیرے جڑے کف لنکس‘ سونے کا ایک پین اور ایک انگوٹھی بطور تحفہ دی‘ پوری دنیا میں حکمران حکمرانوں کو تحائف دیتے ہیں‘ یہ تحفے عموماً عجائب گھروں میں رکھ دیے جاتے ہیں یا پھر ایوان صدر یا وزیراعظم ہائوس میں سجائے جاتے ہیں ‘ وائیٹ ہائوس اس کی سب سے بڑی مثال ہے وہاں دو دو سو سال پرانے تحفے نمائش کے لیے رکھے ہیں‘ تاہم پاکستان میں روایت ذرا سی مختلف ہے یہاں صدر یا وزیراعظم کو ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے جاتے ہیں‘اب توشہ خانہ کیا ہے؟ توشہ خانہ مغلوں کے دور میں ہندوستان میں بنا تھا‘ اس میں بادشاہ کو ملنے والے تحائف رکھے جاتے تھے‘ بادشاہ اپنے مہمانوں اور درباریوں کو خلعت عطا کرتا تھا‘ یہ خلعت بھی توشہ خانہ میں رکھی جاتی تھی اور وہیں سے منگوا کر مہمانوں کو عنایت کی جاتی تھی‘ توشہ خانہ مغلوں سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں آیا‘ پھر وائسرائے کے پاس آیا اور قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کے پاس آ گیا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی دور میں سرکاری تحائف کو سرکاری ملکیت سمجھا جاتا تھا اور کوئی اہلکار انہیں ذاتی طور پر استعمال نہیں کر سکتا تھا‘ پاکستان میں بھی شروع میں یہی روایت تھی‘ بیوروکریٹس سے لے کر صدر تک تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع ہو جاتے تھے لیکن پھر غالباً ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس رُول میں تبدیلی آ گئی اور توشہ خانہ کے اہلکار تحائف کی قیمت کا تخمینہ لگاتے اور پھر اس قیمت کا 20فیصد خزانے میں جمع کرا کر تحفہ حاصل کرنے والا شخص تحفہ ذاتی استعمال میں لانے لگا لہٰذا ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے اور یہ سہولت اس حد تک جائز ہوتی تھی۔ ہم اب واپس عمران خان کے تحائف کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2018ء میں چار انتہائی قیمتی تحائف دیے اور روایت کے مطابق چیف آف پروٹوکول نے تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دیے‘ توشہ خانہ نے گراف کی گھڑی کا تخمینہ ساڑھے آٹھ کروڑ‘ کف لنکس کی مالیت 56 لاکھ 70 ہزار روپے‘ پین کی قیمت 15 لاکھ روپے اور انگوٹھی کی مالیت 87لاکھ 50 ہزارروپے ڈکلیئر کی‘ چاروں تحائف کی ٹوٹل مالیت دس کروڑ 92لاکھ روپے بنی اور اس کا 20فیصد دو کروڑ دو لاکھ 78 ہزار روپے بنا‘ عمران خان نے یہ رقم خزانے میں جمع کرائی اور چاروں تحائف توشہ خانہ سے لے لیے‘ یہ معاملہ یہاں تک بھی جائز اور قانونی تھا لیکن اس کے بعد سٹوری میں دو ٹوئسٹ آئے اوریہ سکینڈل بن گیا‘ وزیراعظم نے دو کروڑ 2 لاکھ 78 ہزار روپے کی رقم اپنی ٹیکس ریٹرن میں ڈکلیئر نہیں کی تھی‘یہ رقم ان کے اکائونٹس میں سرے سے موجود بھی نہیں تھی لہٰذا سوال پیدا ہوا یہ رقم پھر کہاں سے آئی؟ دوسرا چند ماہ بعد گراف کے دوبئی آفس نے اپنے ہیڈکوارٹر کو مطلع کیا ولی عہد کے لیے بنائی گئی گھڑیوں میں سے ایک فروخت کے لیے ہمارے پاس آئی ہے‘ ہم کیا کریں؟ ہیڈکوارٹر نے ولی عہد کے سیکرٹری سے رابطہ کیا اور سیکرٹری نے ولی عہد سے پوچھا‘ وہ اس حرکت پر حیران رہ گئے تاہم انہوں نے گھڑی خریدنے کا عندیہ دے دیا اور یوں وہ گھڑی گراف نے 14 کروڑ روپے میںخرید کرولی عہد کو بھجوا دی اور یہ حرکت غیراخلاقی بھی تھی‘ غیرقانونی بھی اور غیر سفارتی بھی ‘یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے‘ گھڑی دوبئی میں کس نے فروخت کی تھی؟ پارٹی کے چند لوگ ذلفی بخاری کو اس کا ذمہ د ار قرار دیتے ہیں‘ یہ الزام لگاتے ہیں‘ خاتون اول نے گھڑی ذلفی بخاری کو دی اور ذلفی بخاری اسے دوبئی میں فروخت کر آئے‘ میں نے اتوار کو تصدیق کے لیے ذلفی بخاری سے رابطہ کیالیکن ان کا دعویٰ تھا ’’میں نے زندگی میں یہ گھڑی دیکھی اور نہ ہی میں اس معاملے میں انوالو ہوا‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا ’’عمران خان نے اگر توشہ خانہ کی رقم ادا کر دی تھی تو وہ گھڑی کے مالک تھے اور وہ اسے جہاں چاہتے اور جب چاہتے فروخت کرتے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں‘‘۔
عمران خان نے 2018ء سے 2021ء تک غیرملکی سربراہوں سے 58 تحائف حاصل کیے (میرے پاس پوری فہرست موجود ہے) ان کی کل مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ 42 ہزار ایک سو روپے بنتی ہے‘ ان میں رولیکس کی چھ گھڑیاں ‘ سونے اور ہیروں کے لاکٹ سیٹ‘ ائیر رنگز‘ سونے کی انگوٹھیاں اور ہیروں کے بریسلٹ بھی شامل ہیں اور انتہائی مہنگے لیڈیز بیگز بھی‘ خاتون اول کو 20مئی 2021ء کو بھی نیکلس‘ ائیررنگز‘ انگوٹھی اور بریسلیٹ ملا اور توشہ خانہ نے اس کی مالیت 58لاکھ 60ہزار روپے طے کی تھی اور خاتون اول نے رقم جمع کرا کر یہ تحائف لے لیے‘ سوال یہ ہے کیا یہ تحائف عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ملے یاپھر وزیراعظم اور خاتون اول کو اور یہ اگر خاتون اول اور وزیراعظم کو ملے تو پھر ان کا اصل وارث کون ہے؟ یقینا پاکستان لہٰذا یہ کسی بھی صورت حکومت پاکستان کے ہاتھ سے باہر نہیں جانے چاہیے تھے لیکن ہم بفرض محال یہ مان بھی لیں خزانے میں 20فیصد رقم (یہ رقم اب پچاس فیصد ہو چکی ہے) جمع کرا کر وزیراعظم یا صدر ان تحائف کے حق دار بن سکتے ہیں تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے ان تحائف کو مارکیٹ میں بیچنے کی کیا تُک تھی؟ یہ حرکتیں یقینا سفارتی تعلقات کی خرابی کا باعث بنتی ہیں اور شاید یہ وہ حرکت تھی جس کی وجہ سے ہمارے وزیراعظم عمران خان 21 ستمبر 2019ء کو سعودی شاہی جہاز پر امریکا کے دورے پر گئے لیکن رائل فیملی نے واپسی سے پہلے اپنا جہاز واپس منگوا لیا اور وزیراعظم کمرشل فلائیٹ سے پاکستان تشریف لائے‘ کیا یہ دنیا کی پہلی اسلامک نیوکلیئر پاور کے شایان شان تھا اور کیا یہ وہ وقار ہے ہم جس کی بحالی کے دعوے کر رہے ہیں؟۔
عمران خان اس وقت ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے خلاف سڑکوں پر جہاد کر رہے ہیں‘ یہ بے شک کریں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے یہ گورنمنٹ اگر امپورٹڈ ہے تو بھی اس نے آتے ہی کچھ نہ کچھ کرنا شروع کر دیا ہے‘ پانچ دن میں اسلام آباد ائیرپورٹ تک میٹرو بس شروع ہو گئی اور یہ منصوبہ چار سال سے بند پڑا تھا‘ اس پر پندرہ سولہ ارب روپے خرچ ہوئے تھے مگر پچھلی حکومت بس نہیں چلا سکی‘ آپ اگر قومی حکومت تھے تو آپ کم از کم یہ تو کر دیتے‘ یہ حکومت ڈالر کو بھی آٹھ نو روپے نیچے لے آئی اور اس نے شدید مالیاتی دبائو کے باوجود پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھانے سے انکار کر دیا اور یہ اب دیامیر بھاشا اور سی پیک کی رفتار بھی بڑھا رہی ہے اور کراچی کے بند منصوبے بھی شروع کر رہی ہے‘ عمران خان کو ان کاموں سے کس نے روکا تھا؟ یہ کام بھی تو کسی نے کرنے تھے۔ میں دل سے سمجھتا ہوں پنجاب میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ نہیں ہونا چاہیے تھا‘ وفاق میں والد اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بیٹا اس کی کوئی جسٹی فکیشن نہیں اور یہ وہ سیاسی غلطی ہے جس کا جواب اس حکومت کو روز دینا پڑے گا لیکن اس کے باوجود میرے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے حمزہ شہباز خواہ کتنا ہی غلط اور غیرسیاسی فیصلہ کیوں نہ ہو لیکن یہ کم از کم عثمان بزدار سے تو بہتر ہی ہو گا‘ پوری دنیا عمران خان کو سمجھاتی رہی لیکن یہ خواجہ سراء سے اولاد نرینہ کی امید لگا کر بیٹھے رہے‘ عثمان بزدار نے پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیلی کاپٹر استعمال کیا لیکن ساڑھے تین برسوں میں صوبے کا بیڑہ غرق کر دیا‘ ڈی جی خان میں مشہور تھا عثمان بزدار کے علاقے کے درخت بھی دیہاڑی لگاتے ہیں‘ یہ بھی جب تک کچھ وصول نہ کر لیں یہ راہ گیروں کو راستہ نہیں دیتے‘بزدار کے بعد حمزہ شہباز انتہائی غیرسیاسی فیصلے کے باوجود عثمان بزدار سے بہتر ثابت ہوں گے اور پنجاب کے عوام کی سانس میں سانس آئے گی‘ عمران خان اگر آج سے تین سال پہلے پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیتے یا علیم خان کو موقع دے دیتے تو یہ آج جلسوں میں امپورٹڈ حکومت کے طعنے نہ دے رہے ہوتے‘ یہ آج بھی وزیراعظم ہوتے لیکن شاید یہ اس ذہنی کیفیت میں چلے گئے ہیں جس میں انسان خود کو ہرحال میں ٹھیک اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے۔ قائداعظم کے بعد عمران خان دوسرے لیڈر تھے جنہیں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کی اتنی سپورٹ ملی لیکن افسوس انہوں نے ملک کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو انہوں نے گراف کی گھڑی کے ساتھ کیا تھا لہٰذا آج اگر ان سے گھڑی کے بارے میں پوچھا جائے تو یہ مسکرا کر کہتے ہیں گھڑی میری تھی‘ میں نے بیچ دی اور ملک کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال ہوتا ہے‘ میرا ملک تھا میں اسے عثمان بزدار کے حوالے کرتا یا محمود خان کے آپ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں ؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا اس آرگومنٹ کا کوئی جواب ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو یہ جواب کون دے گا؟میرا خیال ہے قوم یوتھ کے علاوہ اس منطق کو کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ بیان کر سکتا ہے۔

Introduction:

Tum News represnts Pakistan…. everywhere globe of the World.It’s international channel… based on London … landing rights 19 countries in the world including Middle East, Europe, UK, USA, Canada, Malaysia and Pakistan.

Sattilite in Pakistan: AsiaSat 7 Also IpTv, Apple Tv, Andiord Tv, Amazon Tv, Roku, Jadoo TV, Jadoo box, Jadoo 5s, Google TV, ebaba…. etc

Tum news|Ruku Channel Store

https://channelstore.roku.com/en-ca/details/31c9eadf684f1f9b3dc900e40c67ea74/tum-news

APP

IOS: https://apps.apple.com/ca/app/tum-news/id1591814293

Android: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.live247stream.popularnewstv

Social media

Youtube

Tum News Live: https://www.youtube.com/channel/UCT3sBnwEB-X3r_tqb-u4fQg

Tum News: https://www.youtube.com/channel/UC3AzH8rdkiO_59RNU2jRlQg

Facebook:

: https://www.facebook.com/Tum-News-Live-101181202396831/

Twitter:

Tum News01: https://twitter.com/tumtvofficial

Insta :

Tum News01: https://www.instagram.com/tumtvofficial

Tum news Live :Website

https://tumtv.co.uk/

Office in Pakistan

Head office: Lahore

Sub office: Islamabad,Faisalabad,Okara,Multan,Karachi,Gawadar

650 representers (who work for Tum News) in Pakistan

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on google
Google+