سری لنکا نے 12 اپریل کو خود کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیا سٹیفن_ہاکنگ …..! (دور حاضر کا آئن سٹائن) سخت معاشی فیصلوں میں تاخیر، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پیش رفت رک گئی ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کل ہوگا برصغیر کے عظیم ریسلر “گاما پہلوان” کی سالگرہ کے موقع گوگل نے اپنا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام کر دیا۔ طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کی امریکی مندوب سے قطر میں ملاقات پیوٹن کا منصوبہ کامیاب : روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ اضافہ شیخ رشید کا اپنے قتل کی سازش کا دعویٰ عثمان بزدار نے عون چوہدری کو 50 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس بھیج دیا ن لیگ کا اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف دوبارہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا اعلان نئےگورنر پنجاب کی تقرری کا معاملہ، وزیراعظم نے دوسری سمری صدر کو بھیج دی چینی باشندوں پر حملہ کرنیوالوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں گے: بلاول بھٹو تمام ارکان کے حوصلے بلند ہیں، باپ بیٹے کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے: پرویز الٰہی انٹرنیٹ پر دوستی، امریکی ڈاکٹر پاکستانی درزی سے شادی کیلئے گوجرانوالہ آگئی
راجن پور /محمد پور میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ راجن پور: طلبہ کا انڈس ہائی وے بلاک کر کے احتجاج راجن پور: طلبہ کی جانب سے امتحانات کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج راجن پور: مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش : پولیس راجن پور: بلاک ٹریفک پر امن کھلوانے کی کوشش:پولیس راجن پور: مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ راجن پور: پتھراؤ کے نتیجے میں تھانہ محمد پور پولیس کے دو اہلکار زخمی راجن پور: زخمی اہلکاروں علاج معالجہ کے لیئے ہسپتال منتقل راجن پور: پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز مردان: فائرنگ / میاں بیوی جانبحق مردان: رستم کے علاقہ جمڈھیر میں فائرنگ:ریسکیو1122 مردان: بھائی کے فائرنگ سے بھاِئی اور بھابھی جانبحق مردان: جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی : پولیس مردان: ریسکیو1122 کی ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی رمردان: 35 سالہ خالد بیوی سمیت ہسپتال منتقل: ریسکیو1122 مردان:ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی منکیرہ/ٹرانسفارمر خراب منکیرہ:محلہ چھینہ والا کا ٹرانسفارمر 4 دن سے خراب،اہل علاقہ کو شدید مشکلات منکیرہ :لوڈ بڑھ جانے کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن گیا منکیرہ :ٹرانسفارمر 25 کے وی کا نصب تھا جوکہ لوڈ برداشت نہ کرسکا منکیرہ :علاقہ مکینوں نے متعدد بار ٹرانسفارمر کو مرمت کروایا منکیرہ : قریبی ٹرانسفارمر پر منتقلی کے بعد وولٹیج کی کمی پوری نہ ہوسکی منکیرہ :شدید گرمی کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا منکیرہ:فریج،موٹرز،دیگر گھریلوں اشیاء کم وولٹیج کی وجہ سے جل گئیں منکیرہ:ایس ڈی او واپڈا افسران فوری طور پر ایکشن لیکر ٹرانسفارمر نصب کروائیں منکیرہ : نیا ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکا ، احتجاج کرنے پر مجبور ،اہل محلہ فیصل آباد /خون سفید ہوگیا فیصل آباد : بھائی نے بھائی پر مبینہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا:پولیس فیصل آباد : لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے سول ہسپتال لایا گیا : پولیس فیصل آباد : وقوعہ تھانہ صدر کے علاقہ نواحی گاؤں 175 گ ب میں پیش آیا:پولیس فیصل آباد : پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی:پولیس فیصل آباد : مقتول کا نام عمر فاروق بتایا جاتا ہے:ایس ایچ او مہر ریاض فیصل آباد : جلد ہی قتل کی وجہ معلوم کر لیں گے:پولیس ننکانہ صاحب/خون سفید ہونے لگے ننکانہ صاحب : زمینی تنازعہ ، بھائی نے بھائی کو گولی مار دی: زرائع ننکانہ صاحب: گولی لگنے سے50 سالہ محمد عارف شدید زخمی: زرائع ننکانہ صاحب: زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہ کوٹ منتقل : زرائع چنیوٹ/ ویکسینیشن سنٹرزکا دورہ چنیوٹ:ڈپٹی کمشنر کاکورونا ویکسینیشن سنٹرز لالیاں اور چناب نگر کا دورہ چنیوٹ:انتظامات و سہولیات کا جائزہ لیا اور ریکارڈ کو چیک کیا چنیوٹ: ان جنچارجز سنٹرز کو مناسب ہدایات جاری کیں منڈی احمد آباد/سیل دوکانوں کا معاملہ منڈی احمد آباد: قائمہ کمیٹی براۓ ریلوے کے چیئرمین معین وٹو کا منڈی احمد آباد کا دورہ منڈی احمد آباد: ریلوے حکام کی جانب سےسیل دکانوں پر آگاہ کیا گیا منڈی احمد آباد:سیل دوکانے جلد بحال کروانے کا فیصلہ منڈی احمد آباد:ریلوے کرائےمیں کمی کی کوشش کریں گے:معین وٹو لیہ /گھریلو جھگڑا لیہ:چوبارہ معمولی تکرار پر جھگڑا ،گولیاں چل گئیں لیہ:1 خاتون سمیت 4 افراد زخمی:پولیس لیہ:چکنمبر 311 ٹی ڈی اے میں 3 افراد نے معمولی رنجش پر رشتے داروں پر فائرنگ کر دی:پولیس لیہ:زخمیوں میں باپ 2 بیٹے اور ان کی پھوپھو زہرہ بی بی شامل ہیں:پولیس لیہ:زخمی ہسپتال منتقل ،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب:پولیس لیہ:3 زخمی حالت تشویش ناک ہونے پر نشتر ریفر لیہ: ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد گرفتار کر لیا جائے گا:ایس ایچ او ساہیوال /سنٹرل جیل میں کرپشن کا معاملہ ساہیوال: سپرٹینڈنٹ جیل ،ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سمیت 10 جیل ملازمین معطل ساہیوال:سپریٹنڈنٹ منصور اکبر اور دیگر ملازمین پر ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام ساہیوال:سپیشل برانچ کی سورس رپورٹ پر نٹینڈنٹ جیل اور عملہ معطل ساہیوال: رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل میں ماہانہ 81 سے 90 لاکھ تک کی کرپشن کی جا رہی ہے ساہیوال:ڈی ائی جی طارق محمود کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ساہیوال: کرپشن انکواری رپورٹ یکم جون کو پیش کرنے کا حکم ساہیوال: تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لیں:ڈی ائی جی ظاہر پیر : قومی شاہرہ موچی والا کے قریب دو کنٹینر آپس میں ٹکرا گئے ظاہر پیر : حادثہ کے نتیجہ میں دونوں کنٹینرز روڈ پر الٹ گئے ظاہر پیر : کنٹینرز میں ہارڈ بورڈ شیٹس اور نمک لوڈ تھا ظاہر پیر : ظاہر پیر : حادثہ نیند آنے کے سبب پیش آیا ظاہر پیر: دو شخص معمولی زخمی ،طبی امداد دی گئی ظاہر پیر : ریسکیو 1122 نے کنٹینرز ہٹا کر ،روڈ ٹریفک کیلئے کلیر کر دیا

چاریکار اور انگریزوں کی افغانوں سے جنگ

تحریر:(سردارمحمدجاویدخاں)ہم کابل سے مزار شریف کےلئے روانہ ہو ں تو ہم 69 کلو میٹر بعد صوبہ پروان کے دارالحکومت چاریکار پہنچ جائیں گے‘ یہ شہر تاریخ میں دو حوالوں سے مشہور ہے‘ چنگیز خان اور خوارزم شاہ کے درمیان جنگ1221ءمیں چاریکار میں ہوئی تھی‘ جنگ میںخوارزم شاہ کو شکست ہوئی اور وہ ہندوستان بھاگ آیا‘ دوسرا حوالہ انگریزوں اور افغانوں سے جنگ ہے‘ یہ جنگ بھی چاریکار میں ہوئی اور افغانوں نے1841ءمیں یہاں برطانیہ کی پوری فوج کاٹ کر پھینک دی‘ صرف ایک انگریز ڈاکٹر اور ایک ہندوستانی پنڈت رام لال کشمیری بچا۔
چاریکار اس وقت پاکستان کے لحاظ سے بہت اہم شہر ہے‘ پاکستان کے زیادہ تر دشمن اس وقت چاریکار میں مقیم ہیں‘ تحریک طالبان پاکستان ہو‘ لشکر جھنگوی ہو‘بلوچستان لبریشن فرنٹ ہو یا پھر ایم کیو ایم لندن کے لوگ ہوں یہ تمام چاریکار میں ٹھکانے بنا کر بیٹھے ہیں‘ یہ لوگ چاریکار میں کیوں ہیں؟ تین وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ‘ یہ نان پشتون علاقہ ہے‘ چاریکار میں تاجک زیادہ اور پشتون کم ہیں چنانچہ پاکستان کے باغی خود کواس علاقے میں زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں‘ دوسری وجہ‘یہ علاقہ افغان روس وار کے دوران شمالی اتحاد کے قبضے میں تھا‘ شمالی اتحاد بھارت نواز اور پاکستان دشمن تھا‘ بھارتی ایجنٹ آج بھی علاقے میں موجود ہیں ‘ یہ ایجنٹ ان لوگوں کو چاریکار میں ہر قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں اور تیسری وجہ‘ یہ شہر کابل سے باہر ہونے کے باوجود وفاقی دارالحکومت سے آدھ گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے ‘ یہ لوگ وفاقی حکومت پر نظر رکھتے ہیں اور وفاقی حکومت ان پر چیک رکھتی ہے‘اب سوال یہ ہے کیا افغان حکومت ان لوگوں کی موجودگی سے واقف نہیں؟ افغان حکومت نہ صرف ان کی موجودگی سے واقف ہے بلکہ یہ انہیں ہر قسم کی سہولتیں بھی فراہم کر تی ہے‘ یہ لوگ گھروں میں رہتے ہیں‘ ان کے باقاعدہ دفاتر ہیں‘ ان کے ٹریننگ کیمپس ہیں‘ انہیں فون اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے‘ ان کے پاس شناختی کاغذات ہیں اور یہ لوگ ملک بھر میں ذاتی گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں‘ افغان حکومت نے پاکستان کے انتہائی مطلوب ملا فضل اللہ کو ”سواتی مہاجر“ قرار دے رکھا ہے اور اسے ساتھیوں سمیت رہائش گاہیں اور سیاسی پناہ فراہم کر رکھی ہے‘ یہ ”سواتی مہاجر“ افغانستان میں بیویوں اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں اور انہیں یہاں دنیا جہاں کی سہولتیں حاصل ہیں‘ کابل شہر میں ”نائین زیرو“ کے نام سے ایم کیو ایم لندن کا مرکز بھی بن چکا ہے ‘ اس میں ایم کیو ایم لندن کے سو سے زائد ورکرز موجود ہیں‘ یہ لوگ وہاں کیوں ہیں اور یہ وہاں کیا کر رہے ہیں یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی‘ یہ لوگ بارود ہیں اور یہ بارود بھارت افغانستان کی مدد سے پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے‘
ہمارے ستر ہزار شہری چاریکار میں موجود اس بارود کا رزق بن چکے ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے‘ آپ اب دوسری حقیقت ملاحظہ کیجئے‘میں آپ کو چند لمحوں کےلئے ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں‘ آپ کو یاد ہوگا سوویت یونین نے دسمبر 1979ءمیں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا‘ امریکا اس قبضے کے خلاف تھا‘ یہ روس کو دریاآمو کے پار ازبکستان تک محدود رکھنا چاہتا تھا‘کیوں؟کیونکہ سوویت یونین افغانستان پہنچنے کے بعد گرم پانیوں کے قریب ہو جاتا اور یہ امریکا کومنظور نہیں تھا‘ پاکستان امریکاکی مجبوری سے واقف تھا‘ یہ آگے بڑھا اور اس نے امریکا کو اپنی ”سروسز“ پیش کر دیں‘
امریکا نے ڈالر اور اسلحہ دیا‘ہم نے مجاہدین فراہم کئے اور یوں افغانستان دو سپرپاورز کا میدان جنگ بن گیا‘ یہ سلسلہ دس سال جاری رہا‘ افغان وار کے چار فریق تھے‘ روس‘ افغان ‘مجاہدین اور امریکا‘آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجئے یہ چاروں جنگ کے آخر میں پاکستان کے مخالف ہو گئے ‘ آپ روس کی مثال لیجئے‘روس کو افغان وار میں شکست ہوئی اور یہ افغانستان خالی کرنے پر مجبور ہوگیا‘ یہ 1989ءسے پاکستان کو اپنی شکست کا ذمہ دار سمجھ رہا ہے‘دوسرا فریق افغانستان اس جنگ میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا‘ افغانوں کی دو نسلیں جنگ کے دوران پیدا ہوئیں اور یہ جنگ کی ذلت کے ساتھ جوان ہوئیں‘ افغان اپنی اس ذلت کا ذمہ دار پاکستان کو گردانتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں پاکستان ان کے نام پر امریکا سے ڈالر بٹورتا رہا‘ یہ ان کی لاشیں بیچتا رہا چنانچہ یہ بھی ہم سے نفرت کرتے ہیں‘ تیسرا فریق امریکا تھا‘ امریکایہ سمجھتا ہے یہ 1980ءسے پاکستان کو اربوں ڈالردے رہا ہے لیکن پاکستان اس امداد کے باوجود افغانستان میں امریکی مقاصد پورے نہیں کر رہا ہے لہٰذا یہ بھی اب ہم سے نفرت کرتا ہے اور پیچھے رہ گئے مجاہدین‘ امریکا نے 1980ءمیں عربوں کے ساتھ مل کر مجاہدین کے لشکر تیار کئے‘یہ لشکر پاکستان لائے گئے‘ پاکستان ان کا میزبان تھا‘پاکستان نے اپنی سرزمین کو بھی مجاہدین کی پنیری بنا دیا ‘ پاکستانی مجاہدین عرب اور افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1989ءتک روس سے لڑتے رہے‘
امریکا افغان وار میں مجاہدین کا سپورٹر اور پاکستان میزبان تھا لیکن جوں ہی جنگ ختم ہوئی تو امریکا اور پاکستان دونوں نے مجاہدین کو فراموش کر دیا‘افغانستان کی صورتحال دگرگوں ہوگئی‘مجاہدین نے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے شروع کر دیئے‘ افغانستان میں1994ءمیں طالبان حکومت بنی تو پاکستان نے اسے تسلیم کر لیااوریوں طالبان پاکستان بھائی بھائی ہو گئے‘ یہ تعلقات 2001ءتک چلتے رہے‘ نائین الیون کے بعد پاکستان اچانک طالبان کے خلاف امریکا کا اتحادی بن گیا‘ طالبان پاکستان کی اس شفٹنگ کو ہضم نہ کر سکے چنانچہ یہ بھی پاکستان کے دشمن ہو گئے۔
اب صورتحال یہ تھی روس پاکستان کا دشمن‘ افغان مجاہدین پاکستان کے دشمن‘ عرب مجاہدین پاکستان کے دشمن‘ طالبان پاکستان کے دشمن اور پاکستانی مجاہدین بھی پاکستان سے ناراض‘ یہ تمام ناراضگیاں اور دشمنیاں دباﺅ بنیں اور یہ دباﺅ افغانستان کی صورتحال کو طورخم بارڈر سے پاکستان لے آیا‘ پاکستانی مرنے لگے اور یہ مرتے چلے گئے‘ پاکستانی شہداءکی تعداد 70 ہزار ہو چکی ہے‘پاکستانی لوگ بھی اب ان شہداءکا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتے ہیں‘ہمیں یہاں یہ حقیقت بھی ماننی ہو گی سوویت یونین افغان وار کے بعد ٹوٹ گیا‘ یہ روس بن گیا لیکن یہ اپنی شکست نہیں بھولا‘ یہ 27 برس سے ان مجاہدین کو امریکا کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے جنہوں نے 80 ءکی دہائی میں امریکا کے ساتھ مل کر روس کو شکست دی تھی‘ روس 1994ءسے طالبان سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے‘ روسی حکومت نے طالبان انقلاب کے شروع میں ملا عمر کو ہر قسم کی معاونت کی پیشکش کی لیکن طالبان نے یہ آفر مسترد کردی‘ اسامہ بن لادن نے 1998ءمیں خوست میں پاکستانی صحافیوں سے ملاقات کی ‘ صدر بل کلنٹن نے ملاقات سے اگلے دن خوست اور جلال آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پرمیزائل داغ دیئے‘ کے جی بی نے اس حملے کے فوراً بعد قندہار میں ملا عمر سے دوسری بار رابطہ کیا‘ انہیں امریکا کے خلاف مدد کی پیش کش کی لیکن ملا عمر نے اس بار بھی انکار کر دیا‘
روس نے تیسری پیشکش 1999ءمیں کی‘ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے امریکا کے دباﺅ پر15 اکتوبر 1999ءکو طالبان حکومت کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگا دی تھیں‘ روس نے اس وقت بھی طالبان کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن ملا عمر نے فیکس پھاڑ کر پھینک دی‘روس نے چوتھی آفر نائین الیون کے بعد کی‘ امریکا نے 7 اکتوبر2001ءکو افغانستان پر حملہ کر دیا‘ کے جی بی کے اعلیٰ عہدیدار تاجکستان پہنچے‘طالبان کی سیکرٹ ایجنسی کے سربراہ احمد اللہ سے رابطہ کیا اور انہیں پیشکش کی ”ہم آپ کو اسلحہ دیں گے‘ پیسہ دیں گے‘ ٹریننگ دیں گے اور سفارتی مدد دیں گے‘ آپ بس اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے دیں“ لیکن طالبان نے اس بار بھی انکار کر دیا‘ احمد اللہ بعد ازاں پکتیا میں میزائل حملے میں مارا گیا‘ افغانستان میں طالبان حکومت ختم ہو گئی لیکن روس طالبان سے رابطے میں رہا‘ یہ انہیں مسلسل تعاون کی پیشکش کرتا رہا مگر یہ لوگ 2015ءتک انکار کرتے رہے ‘ طالبان 2015ءکے آخر میں روس سے ہاتھ ملانے پر مجبور ہوگئے‘ یہ صدر پیوٹن کے ڈائریکٹ ”کانٹیکٹ“ میں آ گئے‘ روس نے انہیں شمالی اتحاد سے سٹینگر میزائل خرید کر دیئے‘ طالبان اب ان میزائل کے ذریعے افغانستان میں امریکی ہیلی کاپٹر گرا رہے ہیں‘ یہ سٹینگر میزائل امریکا نے افغان وار کے دوران مجاہدین کو فراہم کئے تھے ‘ یہ روس کی شکست کا باعث بنے تھے‘ روس نے ایک کروڑ ڈالر فی میزائل بولی لگا دی ہے‘ یہ سابق مجاہدین سے میزائل خریدتا ہے اور موجودہ مجاہدین کے حوالے کر دیتا ہے اور موجودہ مجاہدین افغانستان میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں‘ تحریک طالبان افغانستان کے سابق امیر ملا منصور بھی روسی رابطے میں تھے‘ یہ ایران جا کر روسیوں سے ملاقات کرتے تھے‘
یہ 21مئی 2016ءکو روسیوں سے مل کر ایران سے واپس آ رہے تھے اور یہ بلوچستان کے علاقے احمد وال میں امریکی ڈرون کا نشانہ بن گئے‘ یہ پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہولڈر تھے‘ یہ پاکستانی پاسپورٹ پر 18 مرتبہ پاکستان سے باہر گئے‘ملا منصور نے 13 مرتبہ کراچی ائیرپورٹ اور ایک بار کوئٹہ ائیر پورٹ استعمال کیا‘ ملا منصور کی بیگمات اور بچے کراچی میں رہتے تھے‘ یہ لوگ شاید اب بھی کراچی میں موجود ہیں‘ طالبان دعویٰ کرتے ہیں‘ صدر پیوٹن نے ملا منصور کی ہلاکت پر لواحقین کو تعزیتی خط لکھا تھا‘ ملا منصور کی ایران میں روسیوں سے ملاقاتیں اور صدر پیوٹن کا خط ثابت کرتا ہے طالبان اب روسیوں کے کنٹرول میں ہیں‘ روس انہیں اسلحہ بھی دے رہا ہے‘ پیسہ بھی‘ ٹریننگ بھی اور سیٹلائیٹ کی سہولت بھی‘ یہ لوگ ان سہولتوں کی مدد سے افغانستان میں افغان حکومت اور امریکا دونوں کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں‘آپ اب افغانستان کی صورتحال ملاحظہ کیجئے ۔(جاری ہے)

Introduction:

Tum News represnts Pakistan…. everywhere globe of the World.It’s international channel… based on London … landing rights 19 countries in the world including Middle East, Europe, UK, USA, Canada, Malaysia and Pakistan.

Sattilite in Pakistan: AsiaSat 7 Also IpTv, Apple Tv, Andiord Tv, Amazon Tv, Roku, Jadoo TV, Jadoo box, Jadoo 5s, Google TV, ebaba…. etc

Tum news|Ruku Channel Store

https://channelstore.roku.com/en-ca/details/31c9eadf684f1f9b3dc900e40c67ea74/tum-news

APP

IOS: https://apps.apple.com/ca/app/tum-news/id1591814293

Android: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.live247stream.popularnewstv

Social media

Youtube

Tum News Live: https://www.youtube.com/channel/UCT3sBnwEB-X3r_tqb-u4fQg

Tum News: https://www.youtube.com/channel/UC3AzH8rdkiO_59RNU2jRlQg

Facebook:

: https://www.facebook.com/Tum-News-Live-101181202396831/

Twitter:

Tum News01: https://twitter.com/tumtvofficial

Insta :

Tum News01: https://www.instagram.com/tumtvofficial

Tum news Live :Website

https://tumtv.co.uk/

Office in Pakistan

Head office: Lahore

Sub office: Islamabad,Faisalabad,Okara,Multan,Karachi,Gawadar

650 representers (who work for Tum News) in Pakistan

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on google
Google+