ناروے میں اتوار کے روز طالبان وفد کی افغان سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقات ہوئی ہے۔ سومنات مندر وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا۔ بیلجیئم میں کورونا پابندیوں کےخلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 57401 ٹیسٹ کیے گئے سندھ کے بلدیاتی قانون کے خلاف کراچی میں جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جسٹس عائشہ ملک کی تقریب حلف برداری سپریم کورٹ میں ہوئی پاکستان اور چین کی دوستی لازوال ہے، پاک چین دوستی ہر مشکل وقت میں آزمودہ ہے,صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی چاریکار اور انگریزوں کی افغانوں سے جنگ ‏دھرتی کے سپوت —–دلا بھٹی کی مختصر تاریخ اور لوہڑی کا تہوار کراچی میں وائلڈ لائف فوٹوگرافی کی نمائش، معدوم ہوتی نسلوں کی اہمیت اجاگر نظرثانی شدہ 5.37 فیصد شرح نمو 14 سال کی دوسری بہترین شرح نمو ہے: شوکت ترین شاہین شاہ آفریدی نے بابر اعظم کو ارطغرل قرار دیدیا اقوام متحدہ کی یمن میں فضائی حملے کی مذمت، تحقیقات کا مطالبہ ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی حالت تشویشناک، دوبارہ ہسپتال داخل
راجن پور /محمد پور میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ راجن پور: طلبہ کا انڈس ہائی وے بلاک کر کے احتجاج راجن پور: طلبہ کی جانب سے امتحانات کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج راجن پور: مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش : پولیس راجن پور: بلاک ٹریفک پر امن کھلوانے کی کوشش:پولیس راجن پور: مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ راجن پور: پتھراؤ کے نتیجے میں تھانہ محمد پور پولیس کے دو اہلکار زخمی راجن پور: زخمی اہلکاروں علاج معالجہ کے لیئے ہسپتال منتقل راجن پور: پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز مردان: فائرنگ / میاں بیوی جانبحق مردان: رستم کے علاقہ جمڈھیر میں فائرنگ:ریسکیو1122 مردان: بھائی کے فائرنگ سے بھاِئی اور بھابھی جانبحق مردان: جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی : پولیس مردان: ریسکیو1122 کی ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی رمردان: 35 سالہ خالد بیوی سمیت ہسپتال منتقل: ریسکیو1122 مردان:ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی منکیرہ/ٹرانسفارمر خراب منکیرہ:محلہ چھینہ والا کا ٹرانسفارمر 4 دن سے خراب،اہل علاقہ کو شدید مشکلات منکیرہ :لوڈ بڑھ جانے کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن گیا منکیرہ :ٹرانسفارمر 25 کے وی کا نصب تھا جوکہ لوڈ برداشت نہ کرسکا منکیرہ :علاقہ مکینوں نے متعدد بار ٹرانسفارمر کو مرمت کروایا منکیرہ : قریبی ٹرانسفارمر پر منتقلی کے بعد وولٹیج کی کمی پوری نہ ہوسکی منکیرہ :شدید گرمی کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا منکیرہ:فریج،موٹرز،دیگر گھریلوں اشیاء کم وولٹیج کی وجہ سے جل گئیں منکیرہ:ایس ڈی او واپڈا افسران فوری طور پر ایکشن لیکر ٹرانسفارمر نصب کروائیں منکیرہ : نیا ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکا ، احتجاج کرنے پر مجبور ،اہل محلہ فیصل آباد /خون سفید ہوگیا فیصل آباد : بھائی نے بھائی پر مبینہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا:پولیس فیصل آباد : لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے سول ہسپتال لایا گیا : پولیس فیصل آباد : وقوعہ تھانہ صدر کے علاقہ نواحی گاؤں 175 گ ب میں پیش آیا:پولیس فیصل آباد : پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی:پولیس فیصل آباد : مقتول کا نام عمر فاروق بتایا جاتا ہے:ایس ایچ او مہر ریاض فیصل آباد : جلد ہی قتل کی وجہ معلوم کر لیں گے:پولیس ننکانہ صاحب/خون سفید ہونے لگے ننکانہ صاحب : زمینی تنازعہ ، بھائی نے بھائی کو گولی مار دی: زرائع ننکانہ صاحب: گولی لگنے سے50 سالہ محمد عارف شدید زخمی: زرائع ننکانہ صاحب: زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہ کوٹ منتقل : زرائع چنیوٹ/ ویکسینیشن سنٹرزکا دورہ چنیوٹ:ڈپٹی کمشنر کاکورونا ویکسینیشن سنٹرز لالیاں اور چناب نگر کا دورہ چنیوٹ:انتظامات و سہولیات کا جائزہ لیا اور ریکارڈ کو چیک کیا چنیوٹ: ان جنچارجز سنٹرز کو مناسب ہدایات جاری کیں منڈی احمد آباد/سیل دوکانوں کا معاملہ منڈی احمد آباد: قائمہ کمیٹی براۓ ریلوے کے چیئرمین معین وٹو کا منڈی احمد آباد کا دورہ منڈی احمد آباد: ریلوے حکام کی جانب سےسیل دکانوں پر آگاہ کیا گیا منڈی احمد آباد:سیل دوکانے جلد بحال کروانے کا فیصلہ منڈی احمد آباد:ریلوے کرائےمیں کمی کی کوشش کریں گے:معین وٹو لیہ /گھریلو جھگڑا لیہ:چوبارہ معمولی تکرار پر جھگڑا ،گولیاں چل گئیں لیہ:1 خاتون سمیت 4 افراد زخمی:پولیس لیہ:چکنمبر 311 ٹی ڈی اے میں 3 افراد نے معمولی رنجش پر رشتے داروں پر فائرنگ کر دی:پولیس لیہ:زخمیوں میں باپ 2 بیٹے اور ان کی پھوپھو زہرہ بی بی شامل ہیں:پولیس لیہ:زخمی ہسپتال منتقل ،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب:پولیس لیہ:3 زخمی حالت تشویش ناک ہونے پر نشتر ریفر لیہ: ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد گرفتار کر لیا جائے گا:ایس ایچ او ساہیوال /سنٹرل جیل میں کرپشن کا معاملہ ساہیوال: سپرٹینڈنٹ جیل ،ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سمیت 10 جیل ملازمین معطل ساہیوال:سپریٹنڈنٹ منصور اکبر اور دیگر ملازمین پر ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام ساہیوال:سپیشل برانچ کی سورس رپورٹ پر نٹینڈنٹ جیل اور عملہ معطل ساہیوال: رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل میں ماہانہ 81 سے 90 لاکھ تک کی کرپشن کی جا رہی ہے ساہیوال:ڈی ائی جی طارق محمود کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ساہیوال: کرپشن انکواری رپورٹ یکم جون کو پیش کرنے کا حکم ساہیوال: تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لیں:ڈی ائی جی ظاہر پیر : قومی شاہرہ موچی والا کے قریب دو کنٹینر آپس میں ٹکرا گئے ظاہر پیر : حادثہ کے نتیجہ میں دونوں کنٹینرز روڈ پر الٹ گئے ظاہر پیر : کنٹینرز میں ہارڈ بورڈ شیٹس اور نمک لوڈ تھا ظاہر پیر : ظاہر پیر : حادثہ نیند آنے کے سبب پیش آیا ظاہر پیر: دو شخص معمولی زخمی ،طبی امداد دی گئی ظاہر پیر : ریسکیو 1122 نے کنٹینرز ہٹا کر ،روڈ ٹریفک کیلئے کلیر کر دیا

قسمت کی ایکسپائری ڈیٹ

تحریر :(سردار محمد جاوید خاں)جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف تھے‘ وہ 1992ءکے اگست میں امریکا کے سرکاری دورے پر گئے‘وہ امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر اور وزیر دفاع ڈک چینی سے ملنا چاہتے تھے لیکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کی ملاقات تیسرے درجے کے انڈر سیکرٹری آرنلڈ کینٹور سے طے کر دی تاہم ڈک چینی ملنے کےلئے تیار ہوگئے‘ آرمی چیف پاکستانی سفیر عابدہ حسین کے ساتھ انڈر سیکرٹری سے ملاقات کےلئے گئے تو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر دونوں کو تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا‘ جنرل آصف نواز اس سلوک پر خفا ہو گئے‘ سفیر نے بڑی مشکل سے انہیں یقین دلایا‘ یہ امریکا میں معمول ہے‘ یہ لوگ تمام لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں لیکن جنرل نے اسے اپنی توہین سمجھا‘ یہ لوگ لفٹ کے ذریعے انڈر سیکرٹری کے دفتر پہنچے‘ مہمانوں کا استقبال ایک سابق سفیر نے کیا‘ یہ انہیں انڈر سیکرٹری کے پاس لے گئی‘ کینٹور نے ٹھنڈے انداز سے ان کا استقبال کیا‘ جنرل آصف نواز اور سفیر عابدہ حسین کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی پر بیٹھا رہا‘ گفتگو شروع ہونے سے پہلے خلاف توقع سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بجلی چلی گئی‘ انڈر سیکرٹری نے دراز سے ٹارچ نکالی اور وہ اسے میز پر سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا‘ وہ ناکام ہو گیا تو جنرل آصف نواز اپنی جگہ سے اٹھے‘ ٹارچ لی اور اسے میز پر درست زاویئے پر کھڑا کر دیا‘ انڈر سیکرٹری نے اس کے بعد پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام اور دہشت گردی پر سوال اٹھائے اور یوں یہ ملاقات چائے اور کافی کے بغیر ختم ہو گئی‘ سفیر اور آرمی چیف اس کے بعد پینٹا گان گئے‘ پینٹا گان میں آرمی چیف کے ساتھی جنرل سردار علی کو ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا اور سفیر اور آرمی چیف کو ڈک چینی کے پاس لے جایا گیا‘ جنرل آصف نواز نے ڈک چینی کو افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی‘ ڈک چینی سنتے رہے‘ جب آرمی چیف خاموش ہوئے تو ڈک چینی نے کہا ”کیا میں جنرل کے ساتھ تنہائی میں بات کر سکتا ہوں“ جنرل آصف نواز نے سفیر عابدہ حسین کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا‘ سفیر باہر آ گئیں‘ چند منٹ بعد دروازہ کھلا اور ڈک چینی اور جنرل آصف نواز باہر آ گئے‘ عابدہ حسین کے بقول”جنرل آصف کافی خوش دکھائی دے رہے تھے“ سفیر نے اس رات آرمی چیف کو اپنی رہائش گاہ پر ڈنر دے رکھا تھا‘ ڈنر کے بعد آصف نواز نے عابدہ حسین سے پوچھا ”کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں‘ ڈک چینی نے مجھ سے کیا کہا ہو گا“ عابدہ حسین نے اپنی کتاب ”پاور فیلیئر“ میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا‘ میں نے جواب دیا ”ڈک چینی نے آپ سے کہا ہو گا‘ فوج اگر حکومت پر قبضہ کر کے نیو کلیئر پروگرام کو ریڈ لائین سے پیچھے لے جائے تو ہم مارشل لاءپر خاموش رہیں گے“ عابدہ حسین کے بقول جنرل آصف نواز نے میری آبزرویشن کی داد دی اور کہا ”ہاں ڈک چینی نے مجھ سے یہی کہا تھا لیکن میں نے جواب دیا‘ فوج اقتدار پر قبضے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے“ جنرل نے اس کے بعد کہا ”لیکن نواز شریف ملک کےلئے ناگزیر نہیں ہیں اگر چند ارکان اسمبلی وفاداریاں بدل لیں تو وزیراعظم تبدیل ہو
جائے گا جس سے ہمیں امریکیوں سے مہلت مل جائے گی“۔
جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان آئے اور فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات میں تیزی آ گئی‘ دسمبر 1992ءمیں عابدہ حسین پاکستان آئیں‘ آرمی چیف نے انہیں فخر امام کے ساتھ ڈنر پر بلایا اوردونوں میاں بیوی کو بتایا ”میں نے میاں نواز شریف کو ہٹا کر بلخ شیر مزاری کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے“ یہ انکشاف حیران کن تھا‘ یہ دونوں خاموش رہے‘ نواز شریف اور آصف نواز کی یہ چپقلش بڑھتی رہی لیکن کسی حتمی نتیجے سے پہلے 8 جنوری 1993ءکو جنرل آصف نواز کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ انتقال کر گئے‘ حکومت نے اطمینان کا سانس لیا‘ جنرل آصف نواز کے بعد جنرل فرخ خان سینئر تھے‘ وہ چیف آف جنرل سٹاف تھے‘ صدر اسحاق خان انہیں آرمی چیف بنانا چاہتے تھے لیکن میاں صاحبان کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف کو چیف بنوانا چاہتے تھے‘ صدر اور وزیراعظم کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے چنانچہ میاں شہباز شریف اور چودھری نثار نے عابدہ حسین کو واشنگٹن سے بلوایا اور انہیں جنرل اشرف کی لابنگ کےلئے صدر کے پاس بھجوا دیا لیکن صدر نے صاف جواب دے دیا‘چودھری نثار بعد ازاں خود صدر کے ساتھ انگیج ہوئے اور دونوں جنرل عبدالوحید کاکڑ کے نام پر متفق ہو گئے‘ نیا آرمی چیف آ گیا لیکن صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات قائم رہے‘ یہ اختلافات اپریل 1993ءمیں عروج پر پہنچ گئے‘ جنرل خالد مقبول اس وقت بریگیڈیئر تھے اور یہ امریکا میں ڈیفنس اتاشی تھے‘ عابدہ حسین نے ان سے کہا ”آپ امریکیوں سے ٹوہ لگاﺅ‘ یہ اسلام آباد کے واقعات کو کیسے دیکھتے ہیں“ بریگیڈیئر خالد مقبول نے چند گھنٹے بعد سفیر کوبتایا ”حکومت کے پاس تین چار روز سے زیادہ وقت نہیں“ سفیر نے اپنا سامان باندھنا شروع کر دیا‘ صدر غلام اسحاق خا ن نے18 اپریل کو حکومت برطرف کر دی ‘ بلخ شیر مزاری کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا‘ نواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے‘ سپریم کورٹ نے 26مئی1993ءکو حکومت بحال کر دی لیکن اس بار جنرل عبدالوحید کاکڑ آگے بڑھے اور انہوں نے غلام اسحاق خان اور نواز شریف دونوں کو فارغ کر دیا‘ الیکشن ہوئے‘ میاں نواز شریف الیکشن جیت رہے تھے لیکن یہ ہار گئے اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں‘
آپ کمال دیکھئے‘ نواز شریف کو فارغ کرنے کا اشارہ ڈک چینی نے دیا تھا‘ بلخ شیر مزاری کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ جنرل آصف نواز نے کیا تھا‘ وہ انتقال کر گئے اور میاں برادران نے ان کی جگہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کو آرمی چیف بنوایا لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود میاں نواز شریف فارغ ہوئے اور بلخ شیر مزاری وزیراعظم بنے‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ ثابت کرتا ہے چہرے بدلنے سے فیصلے تبدیل نہیں ہوتے اور اگر سپریم کورٹ بھی فیصلوں کے راستے میں حائل ہو جائے تو بھی فیصلہ‘ فیصلہ رہتا ہے‘ آپ دیکھ لیجئے میاں نواز شریف کو اس وقت ہٹانے کا فیصلہ امریکا نے کیا تھا اور فوج نے اس فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی چنانچہ کرداروں کی تبدیلی کے باوجود وہی ہوا جس کا فیصلہ ہو چکا تھا اور اس فیصلے کو امپلی منٹ کرانے کےلئے وزیراعظم بھی امریکا نے فراہم کیا‘ صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل کاکڑ نے امریکا کی خواہش پر ورلڈ بینک کے ایک ریٹائر ملازم معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنا دیا‘ معین قریشی کو پاکستانی پاسپورٹ اور شیروانی اس وقت پیش کی گئی جب وہ وزارت عظمیٰ کا حلف لینے کےلئے خصوصی طیارے میں سوار ہو چکے تھے‘ معین قریشی نے الیکشن کرائے‘ میاں نواز شریف کواقتدار کے ایوانوں سے آﺅٹ کیا‘ پاکستانی پاسپورٹ اور شیروانی واپس کی اور امریکا واپس لوٹ گئے۔
آپ اگر آج کے حالات کا 1993ءکے واقعات سے تقابل کریں تو آپ کو ان میں مماثلت ملے گی‘ امریکا‘ پاکستان میں سول ملٹری اختلافات اور میاں نواز شریف مثلث کے تینوں زاویئے اپنی اپنی جگہ موجود ہیں‘ امریکا نواز شریف سے خوش بھی نہیں‘ کیوں؟ اس کی چند وجوہات ہیں‘ میاں نواز شریف 1990ءسے پاکستان کو سنٹرل ایشیا سے جوڑنا چاہتے ہیں‘ انہوں نے سنٹرل ایشیا کو پاکستان سے جوڑنے کےلئے 1990میں موٹروے کی بنیاد رکھی اور یہ 1997ءمیں سنٹرل ایشیا کی ریاستوں سے معاہدے کرنے لگے‘ یہ آج بھی وہی ”غلطی“ کر رہے ہیں‘ یہ امریکا کے دونوں دشمنوں چین اور روس کو گوادر میں جمع کر رہے ہیں اور یہ امریکا کےلئے قابل قبول نہیں‘ دوسری وجہ سول ملٹری اختلافات ہیں‘ میاں نواز شریف فوج کے ساتھ اور فوج میاں نواز شریف کے ساتھ کبھی کمفرٹیبل نہیں رہی اور مستقبل میں بھی اس کا کوئی چانس نہیں‘ میاں نواز شریف کو ان کی قسمت مسلسل بچا رہی ہے‘ عمران خان نے دو نومبر کو ان پر کاری وار کرنا تھا لیکن آپ میاں نواز شریف کی قسمت ملاحظہ کیجئے‘ ملک کے ایک بزنس ٹائیکون عین وقت پر ان کی مدد کےلئے پہنچ گئے‘ اس بزنس ٹائیکون نے پہلے ستمبرمیں علامہ طاہر القادری کوراولپنڈی سے لاہور واپس بھجوا یا اور جب 9 اکتوبر کو شیخ رشید علامہ صاحب کو منانے کےلئے لندن جا رہے تھے تو بزنس ٹائیکون کا بیٹا شیخ رشید سے پہلے لندن پہنچ گیا اور اس نے علامہ صاحب کوکینیڈا بھجوا دیا‘ اس ساری افراتفری اور بھاگ دوڑ میں بزنس ٹائیکون کے ساڑھے آٹھ کروڑ روپے خرچ ہو گئے لیکن عمران خان اکیلے رہ گئے اور یہ دوسری مرتبہ بھی دس لاکھ لوگ جمع نہ کر سکے اور یوں میاں نواز شریف پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے‘ یہ بظاہر میاں نواز شریف کی خوش قسمتی ہے‘ یہ اب تک تمام میچ جیت گئے ہیں‘ آج جنرل قمر جاوید باجوہ بھی چارج لے رہے ہیں لیکن وہ سوال آج بھی قائم ہے‘کیا چارج تبدیل ہونے سے فیصلہ بھی تبدیل ہو جائے گا؟ شاید نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ آصف نواز کی طرح فردواحد کا فیصلہ نہیں یہ مشترکہ فیصلہ ہے اور اس مشترکہ فیصلے میں بلخ شیر مزاری کی طرح ایک متبادل وزیراعظم بھی موجود ہے‘ ہم نے بس اب اتنا دیکھنا ہے کیا میاں نواز شریف مستقبل میں بھی اتنے ہی خوش نصیب ثابت ہوتے ہیں یا پھر ان کی قسمت کی ایکسپائری ڈیٹ آ چکی ہے اور یہ جاننے کےلئے اب زیادہ دن نہیں لگیں گے۔
نوٹ: جنرل آصف نواز سے متعلق تمام واقعات سیدہ عابدہ حسین کی کتاب ”پاور فیلیئر“ سے لئے گئے ہیں۔

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on google
Google+