راجن پور /محمد پور میں طلبہ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ راجن پور: طلبہ کا انڈس ہائی وے بلاک کر کے احتجاج راجن پور: طلبہ کی جانب سے امتحانات کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج راجن پور: مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش : پولیس راجن پور: بلاک ٹریفک پر امن کھلوانے کی کوشش:پولیس راجن پور: مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ راجن پور: پتھراؤ کے نتیجے میں تھانہ محمد پور پولیس کے دو اہلکار زخمی راجن پور: زخمی اہلکاروں علاج معالجہ کے لیئے ہسپتال منتقل راجن پور: پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز مردان: فائرنگ / میاں بیوی جانبحق مردان: رستم کے علاقہ جمڈھیر میں فائرنگ:ریسکیو1122 مردان: بھائی کے فائرنگ سے بھاِئی اور بھابھی جانبحق مردان: جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ ہوئی : پولیس مردان: ریسکیو1122 کی ایمبولینس اور میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی رمردان: 35 سالہ خالد بیوی سمیت ہسپتال منتقل: ریسکیو1122 مردان:ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی منکیرہ/ٹرانسفارمر خراب منکیرہ:محلہ چھینہ والا کا ٹرانسفارمر 4 دن سے خراب،اہل علاقہ کو شدید مشکلات منکیرہ :لوڈ بڑھ جانے کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جلنا معمول بن گیا منکیرہ :ٹرانسفارمر 25 کے وی کا نصب تھا جوکہ لوڈ برداشت نہ کرسکا منکیرہ :علاقہ مکینوں نے متعدد بار ٹرانسفارمر کو مرمت کروایا منکیرہ : قریبی ٹرانسفارمر پر منتقلی کے بعد وولٹیج کی کمی پوری نہ ہوسکی منکیرہ :شدید گرمی کے باعث علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا منکیرہ:فریج،موٹرز،دیگر گھریلوں اشیاء کم وولٹیج کی وجہ سے جل گئیں منکیرہ:ایس ڈی او واپڈا افسران فوری طور پر ایکشن لیکر ٹرانسفارمر نصب کروائیں منکیرہ : نیا ٹرانسفارمر نصب نہ ہوسکا ، احتجاج کرنے پر مجبور ،اہل محلہ فیصل آباد /خون سفید ہوگیا فیصل آباد : بھائی نے بھائی پر مبینہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا:پولیس فیصل آباد : لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے سول ہسپتال لایا گیا : پولیس فیصل آباد : وقوعہ تھانہ صدر کے علاقہ نواحی گاؤں 175 گ ب میں پیش آیا:پولیس فیصل آباد : پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی:پولیس فیصل آباد : مقتول کا نام عمر فاروق بتایا جاتا ہے:ایس ایچ او مہر ریاض فیصل آباد : جلد ہی قتل کی وجہ معلوم کر لیں گے:پولیس ننکانہ صاحب/خون سفید ہونے لگے ننکانہ صاحب : زمینی تنازعہ ، بھائی نے بھائی کو گولی مار دی: زرائع ننکانہ صاحب: گولی لگنے سے50 سالہ محمد عارف شدید زخمی: زرائع ننکانہ صاحب: زخمی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شاہ کوٹ منتقل : زرائع چنیوٹ/ ویکسینیشن سنٹرزکا دورہ چنیوٹ:ڈپٹی کمشنر کاکورونا ویکسینیشن سنٹرز لالیاں اور چناب نگر کا دورہ چنیوٹ:انتظامات و سہولیات کا جائزہ لیا اور ریکارڈ کو چیک کیا چنیوٹ: ان جنچارجز سنٹرز کو مناسب ہدایات جاری کیں منڈی احمد آباد/سیل دوکانوں کا معاملہ منڈی احمد آباد: قائمہ کمیٹی براۓ ریلوے کے چیئرمین معین وٹو کا منڈی احمد آباد کا دورہ منڈی احمد آباد: ریلوے حکام کی جانب سےسیل دکانوں پر آگاہ کیا گیا منڈی احمد آباد:سیل دوکانے جلد بحال کروانے کا فیصلہ منڈی احمد آباد:ریلوے کرائےمیں کمی کی کوشش کریں گے:معین وٹو لیہ /گھریلو جھگڑا لیہ:چوبارہ معمولی تکرار پر جھگڑا ،گولیاں چل گئیں لیہ:1 خاتون سمیت 4 افراد زخمی:پولیس لیہ:چکنمبر 311 ٹی ڈی اے میں 3 افراد نے معمولی رنجش پر رشتے داروں پر فائرنگ کر دی:پولیس لیہ:زخمیوں میں باپ 2 بیٹے اور ان کی پھوپھو زہرہ بی بی شامل ہیں:پولیس لیہ:زخمی ہسپتال منتقل ،ملزمان فرار ہونے میں کامیاب:پولیس لیہ:3 زخمی حالت تشویش ناک ہونے پر نشتر ریفر لیہ: ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد گرفتار کر لیا جائے گا:ایس ایچ او ساہیوال /سنٹرل جیل میں کرپشن کا معاملہ ساہیوال: سپرٹینڈنٹ جیل ،ڈپٹی سپرٹینڈنٹ سمیت 10 جیل ملازمین معطل ساہیوال:سپریٹنڈنٹ منصور اکبر اور دیگر ملازمین پر ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا الزام ساہیوال:سپیشل برانچ کی سورس رپورٹ پر نٹینڈنٹ جیل اور عملہ معطل ساہیوال: رپورٹ کے مطابق سنٹرل جیل میں ماہانہ 81 سے 90 لاکھ تک کی کرپشن کی جا رہی ہے ساہیوال:ڈی ائی جی طارق محمود کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ساہیوال: کرپشن انکواری رپورٹ یکم جون کو پیش کرنے کا حکم ساہیوال: تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لیں:ڈی ائی جی ظاہر پیر : قومی شاہرہ موچی والا کے قریب دو کنٹینر آپس میں ٹکرا گئے ظاہر پیر : حادثہ کے نتیجہ میں دونوں کنٹینرز روڈ پر الٹ گئے ظاہر پیر : کنٹینرز میں ہارڈ بورڈ شیٹس اور نمک لوڈ تھا ظاہر پیر : ظاہر پیر : حادثہ نیند آنے کے سبب پیش آیا ظاہر پیر: دو شخص معمولی زخمی ،طبی امداد دی گئی ظاہر پیر : ریسکیو 1122 نے کنٹینرز ہٹا کر ،روڈ ٹریفک کیلئے کلیر کر دیا

عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ اور الکزنڈر

(تحریر :سردار محمد جاوید خاں)موازنہ کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیئے کہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروقؓ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنائی دیتی ہے۔ الگزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں۔

ہم نے بچپن میں پڑھا تھا کہ مقدونیہ کا الکزنڈر ٢٠ سال کی عمر میں بادشاہ بنا، ٢٣ سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر شام میں داخل ہوا اور وہاں سے یروشلم اور بابل کا رخ کیا اور پھر مصر پہنچا۔ وہاں سے ہندوستان آیا اور راجہ پورس کو شکست دی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا اور پھر مکران کے راستے واپسی کے سفر میں ٹائیفوا یڈ میں مبتلا ہو کر بخت نصر کے محل میں ٣٣ سال کی عمر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ دنیا کو بتایا گیا کہ وہ اپنے وقت کا عظیم فاتح جنرل اور بادشاہ تھا اور اسی وجہ سے دنیا اس کو الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم ۔ بمعنی فاتح اعظم ۔ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہوتےہوئے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے؟ سوچئے، الکزنڈر جب بادشاہ بنا تو اسے بہترین ماہروں نے گھڑ سواری اور تیراندازی سکھائی، اسے ارسطو جیسے استادوں کی صحبت ملی اور جب ٢٠ سال کا ہوا تو تخت و تاج پیش کر دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سات پشتوں میں کوئی بادشاہ نہیں گزرا تھا اور وہ اونٹ چراتے چراتے جوان ہوئے تھے۔ آپ نے نیزہ بازی اور تلوار چلانے کا ہنر بھی کسی استاد سے نہیں سیکھا تھا۔ الکزنڈر نے ایک منظم فوج کے ساتھ دس برسوں میں ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، جبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بغیر کسی بڑی منظم فوج کے دس برسوں میں ٢٢ لاکھ مربع میل کا علاقہ زیرنگوں کیا جس میں روم اور ایران کی دو عظیم مملکت بھی شامل ہیں۔
یہ تمام علاقہ جو گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر فتح ہوا اس کا انتظام و انصرام بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ نے بہترین انداز میں چلایا۔ الکزنڈر نے جنگوں کے دوران بے شمار جرنیلوں کا قتل بھی کرایا اور اس کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں۔ ہندوستان میں اسکی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار بھی کیا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کسی ساتھی کو انکے کسی حکم کی سرتابی کی جرات نہ تھی وہ ایسے جرنیل تھے کہ عین میدان جنگ میں حضرت خالد بن ولیدؓ جیسے سپہ سالار کو معزول کیا، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کوفے کی گورنری سے ہٹایا، حضرت حارث بن کعبؓ سے گورنری واپس لی، حضرت عمرو بن العاصؓ کا مال ضبط کرنے کا حکم دیا اور حرص کے علاقے کے ایک اور گورنر کو واپس بلا کر سزا کے طور اونٹ چرانے پر لگا دیا۔ آپ کے ان تمام سخت فیصلوں کے خلاف کسی کو حکم عدولی کی جرات نہ ہوئی سب کو معلوم تھا کہ حضرت عمر فاروقؓ فیصلہ صرف عدل کی بنیاد پر کرتے ہیں اور عدل کے خلاف وہ کچھ برداشت نہیں فرماتے۔
الکزنڈر نے ١٧ لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا لیکن دنیا کو کوئی نظام نہ دے سکا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے دنیا کو ایسے ایسے نظام دیے جو آج تک تک کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں رائج ہیں۔ آپ نے سنہ ہجری کا آغاز کروایا، موذنوں کی تنخواہ مقرر کی اور تمام مسجدوں میں روشنی کا بندوبست فرمایا۔ دنیاوی فیصلوں میں آپ نے ایک مکمل عدالتی نظام تشکیل دیا اور جیل کا تصّور دیا، آبپاشی کا نظام بنایا، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں اور فوج کا با قاعدہ محکمہ قائم کیا۔ آپ نےدنیا بھر میں پہلی مرتبہ دودھ پیتے بچوں، بیواؤں اور معذوروں کے لئے وظائف مقرر کیے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملایم کپڑے سے نفرت تھی۔ آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا۔ آپؓ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے – آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا’عمر ۔ نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے‘۔
آپ فرماتے”ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے“، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ”مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟“ آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صلى الله عليه وسلم نے آپ کو’فاروق‘ کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا۔
اگر آج دنیا بھر کے مورخین الکزنڈر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھ کا موازنہ کرتے ہیں تو انھیں حضرت عمر فاروقؓ کی پہاڑ جیسی شخصیت کے سامنے الکزنڈر ایک کنکر سے زیادہ نہیں معلوم ہوتا کیونکہ الکزنڈر کی بنائی سلطنت اسکے مرنے کے پانچ سال بعد ہی ختم ہو گئی تھی جبکہ حضرت عمر فاروقؓ نے جس جس خطّے میں اسلام کا جھنڈا لگایا وہاں آج بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا سنائی دیتی ہے۔ الگزنڈر کا نام آج صرف کتابوں میں ملتا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دئیے ہوے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے ٢٤٥ ملکوں میں رائج ہیں۔آج بھی جب کبھی کوئی خط کسی ڈاک خانے سے نکلتا ہے، یا کوئی سپاہی وردی پہنتا ہے، یا وہ چھٹی پر جاتا ہے، یا پھر کوئی معذور یا بیوہ حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں تو بلا شبہ حضرت عمر فاروقؓ کی عظمت تسلیم کرنی پڑتی ہے۔
تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ ‘اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جائے گا’ ۔۔ اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ ‘افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) بھی تھا’…
اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوئے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمربن خطاب ہی ہوتا۔“

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on whatsapp
WhatsApp
Share on google
Google+